فصلات میں گاجر بوٹی کاخاتمہ اشد ضروری ہے ، ماہرین زراعت

منگل اپریل 15:52

فیصل آباد۔17 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہاہے کہ گاجر بوٹی دنیاکی 10 بد ترین جڑی بوٹیوں میں سب سے تیزی سے پرورش پانے والی جڑی بوٹی ہے جبکہ پنجاب میں سب سے خطرناک بوٹی کے طور پر سامنے آنیوالی انسانی ، حیوانی ، فصلوں کیلئے نقصان دہ مذکورہ جڑی بوٹی کا خاتمہ اشد ضروری ہے، ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتایاکہ گاجر بوٹی جسے پارتھینیم بھی کہاجاتاہے ماحول کیلئے بھی انتہائی خطرناک ہے ، انہوںنے کہاکہ یہ جڑی بوٹی گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں میکسیکو ، آسٹریلیا، مشرقی افریقہ سے پھیلتی ہوئی ایشیا اور پاکستان بالخصو ص پنجاب پہنچی ہے ، انہوںنے بتایاکہ اس جڑی بوٹی نے انڈیا، چین ، تائیوان ، ویتنام ، ایتھوپیا، کینیا، جنوبی افریقہ و دیگرممالک کو بھی متاثر کیاہے ، انہوں نے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل تک یہ جڑی بوٹی صرف ناکارہ جگہوں پر ہی دیکھنے میں آتی تھی مگر زرعی ماہرین کے حالیہ سروے کے مطابق اب یہ جڑی بوٹی پانی کے کھالوں اور راستوں و ناکارہ زمینوں سے کھیتوں کی جانب تیزی سے بڑھ اور پھیل رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ وسطی پنجاب کے کھیت اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور یہ دھان ، مکئی ، کماد کی فصلوں کو متاثر کر رہی ہے ، انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ گاجر بوٹی کے خاتمہ کیلئے فوری طور پر ماہرین زراعت سے مشاورت کریں اور مناسب زہروں کا سپرے بھی یقینی بنایاجائے۔