ہمارے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں، امیر تنظیم اسلامی حافظ عاکف سعید

منگل اپریل 16:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا بیان اس بے بسی کا مظہر ہے کہ ہم آزادی کے ستر سال گزرنے کے بعد بھی اپنے سابق فرنگی آقائوں کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔ یہ بات امیر تنظیم اسلامی حافظ عاکف سعید نے چیف جسٹس کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں۔

امیر تنظیم اسلامی نے کہا کہ یہ شاخسانہ ہے قوم کے اس وعدے سے انحراف کا جو اس نے تحریک پاکستان کے دوران کیا تھا کہ اگر ہمیں ایک آزاد خطہٴ زمین مل گیا تو اسے اسلام کے اصول حریت و اخوت و مساوات پر مبنی ایک اسلامی ریاست کا نمونہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود فاضل چیف جسٹس توقع رکھتے ہیں کہ اس قانون ہی پر عمل کرلیں تو انصاف کی جلد فرہمی ممکن ہوسکے گی۔

(جاری ہے)

انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون ایسی توقع رکھنا عبث ہے جس کے نتیجے میں پھانسی دئیے جانے کے طویل عرصے کے بعدملزم کو باعزت بری کرنے اور اکیس سال کی قید کے بعد ایک خاتون کو قتل کے الزام سے بری کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عدل کی ضمانت صرف اسلام کا نظام عدل اجتماعی ہی فراہم کرسکتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نظام ہے نہ کہ انسانی ذہن کی تخلیق کردہ ہے۔جب تک یہا ں اسلام کا نظام عدل اجتماعی قائم اور شرعی قوانین نافذ نہیں ہوتے ، ہمارے معاشرے میں ظلم و ناانصافی کا ہی راج رہے گا۔