سعودی عرب میں کل پہلا سینما گھر کھل جائے گا

مملکت کا آئندہ 5 سال میں 40 سینماگھر کھولنے کا اعلان، یہ اقدام مملکت میں تفریحی شعبے کی ترقی کا حصہ ہے،2030 تک 25 سعودی شہروں میں350 سینما تھیٹر کھولے جائیں گے،سعودی وزارت اطلاعات

منگل اپریل 18:58

سعودی عرب میں کل پہلا سینما گھر کھل جائے گا
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) سعودی عرب میں کل (بدھ )کو پہلا سینما گھر کھلجائے گا،حکومت نے آئندہ 5 سال میں 15 شہروں میں 40 سینماگھر کھولنے کا اعلان کیا ہے، یہ اقدام مملکت میں تفریحی شعبے کی ترقی کا حصہ ہے،2030 تک 25 سعودی شہروں میں350 سینما تھیٹر کھولے جائیں گے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں کئی عشروں کے بعد دارالحکومت الریاض میں (آج )بدھ سے پہلا سینما گھر کھل رہا ہے۔

سعودی عرب نے آیندہ پانچ سال کے دوران میں 15 شہروں میں 40 سینماگھر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔یہ اقدام مملکت میں تفریحی شعبے کی ترقی کا حصہ ہے۔2030 تک 25 سعودی شہروں میں ایک سو تھیٹر قائم کیے جائیں گے۔* سعودی وزارت ِاطلاعات کے مطابق 2030 تک مختلف شہروں میں 350 سینما تھیٹر کھولے جائیں گے اور ان کی 2500 سکرینیں ہوں گی۔

(جاری ہے)

سعودی عرب میں سینما گھر چلانے کے لیے جس کمپنی کو پہلا لائسنس جاری کیا گیا ہے ، وہ امریکی کمپنی اے ایم سی ہے۔

* سعودی دارالحکومت الریاض کے ایک عارضی سینما گھر میں سب سے پہلے فلم بلیک پینتھر دکھائی جارہی ہے۔امریکا میں یہ فلم اب تک ساڑھے 66 کروڑ ڈالرز کا کاروبار کر چکی ہے اور شمالی امریکا کی تاریخ میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی یہ تیسری فلم ہے۔اس فلم کی الریاض میں شاہ عبداللہ مالیاتی مرکز کے ایک تھیٹر میں نمائش کی جائے گی۔اس کے ہال میں 620 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

اس تاریخی موقع پر اے ایم سی ایک خصوصی تقریب کا انعقاد بھی کررہی ہے۔ابتدائی طور پر اس فلم کا ٹکٹ 50 ریال کا ہوگا۔* سعودی سینما کا ٹویٹر پر alcinema_sa کے نام سے سرکاری اکانٹ بھی بنا دیا گیا ہے۔ ٹویٹر کی سائٹ پر نمودار ہونے کے بعد صرف پہلے تین گھنٹے میں اس کے پیروکاروں کی تعداد 42 ہزار ہوگئی تھی۔اس کا پہلا ٹویٹ وی آر بیک (ہم واپس آگئی) تھا۔ سعودی عرب کی وزارتِ ثقافت اور اطلاعات کے تخمینے کے مطابق مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی ) میں سینما کے شعبے کا حصہ 24 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوگا۔ سینماں کے قیام سے سعودی عرب میں 2030 تک 30 ہزار سے زیادہ افراد کو کل وقتی روزگار میسر آئے گا اور جزوقتی روزگار کے ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔

متعلقہ عنوان :