ترکی اور روس کے تعلقات فرانسیسی صدر کے بیانات رخنہ نہیں ڈال سکتے،مولود چاوش اوگلو

مختلف سوچ رکھناتعلقات پعر اثر انداز نہیں ہو سکتی،ترک وزیر خارجہ

منگل اپریل 18:59

انقرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے کہا ہے کہ ترکی اور روس کے تعلقات کی بنیاد م ضبوط ہے، فراسیسی صدر کے بیانات تعلقات میں رخنہ نہیں ڈال سکتے، مختلف سوچ رکھنا الگ چیز ہے تعلقات کی استواری الگ ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں کے بیان کے نتیجے میں ترکی اور روس کے درمیان تعلقات ختم نہیں ہو سکتے۔

ماکروں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب شام پر فضائی حملوں نے اس معاملے پر انقرہ اور ماسکو کے بیچ اختلاف پیدا کر دیا۔نیٹو اتحاد کے سکریٹری جنرل کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ ہم مختلف شکل میں سوچیں مگر روس کے ساتھ ہمارے تعلقات اس درجے کمزور نہیں کہ فرانسیسی صدر کے لیے انہیں توڑنا ممکن ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ ""روس کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلقات ہیں۔فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے ملک نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام میں بشار کے ٹھکانوں پر جو عسکری حملہ کیا اس نے ترکی اور روس کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔ ماکروں نے واضح کیا کہ مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے آغاز سے ہی ترکی نے اس کی مذمت کی۔

متعلقہ عنوان :