وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس

کھرب 74 ارب کی لاگت سے دیامیر بھاشا ڈیم منصوبہ اور تقریباً 18 ارب 35 کروڑ روپے کی لاگت سے لودھراں۔ملتان۔خانیوال۔شاہدرہ باغ ریلوے سگنلز کی تبدیلی کی منظوری دیدی

منگل اپریل 19:08

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے 4 کھرب 74 ارب کی لاگت سے دیامیر بھاشا ڈیم منصوبہ اور تقریباً 18 ارب 35 کروڑ روپے کی لاگت سے لودھراں۔ملتان۔خانیوال۔شاہدرہ باغ ریلوے سگنلز کی تبدیلی کی منظوری دیدی ہے۔ قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منگل کو وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا جس میں 474000 ملین روپے کی لاگت سے دیامیر بھاشا ڈیم منصوبہ (صرف ڈیم جزو) کی منظوری دی گئی۔

ڈیم کی 6.4 ملین ایکڑ فٹ براہ راست ذخیرہ جاتی گنجائش ہو گی اور یہ 4500 میگاواٹ بجلی کی نصب شدہ استعداد کا حامل ہو گا۔ تکمیل کے بعد اس منصوبہ سے پاکستان کی قومی آبی ذخیرہ کی گنجائش 38 سے بڑھ کر 45 روز ہو جائے گی اور تربیلا ڈیم سمیت ڈائون سٹریم ذخائر کی مدت کا عرصہ بھی بڑھے گا۔

(جاری ہے)

ایکنک نی2998.10 ملین روپے کی لاگت سے گوادر۔لسبیلہ روزگار معاونت منصوبہ پر نظرثانی کی بھی منظوری دی۔

اس منصوبہ کا مقصد بلوچستان کے 2 اضلاع گوادر، لسبیلہ میں غربت میں کمی لانا ہے۔ یہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ، ماہی پروری اور دیہی بنیادی ڈھانچہ کی بہتری سمیت کئی اہم اقدامات کا حامل منصوبہ ہے۔ 4231.83 ملین روپے کی مجموعی لاگت سے تریموں جھنگ کے قریب 1320 میگاواٹ کے آر ایل این جی پاور پلانٹ سے بجلی کی ترسیل کی بھی منظوری دی گئی۔ 4711.981 ملین روپے کی لاگت سے ’’انصاف تک رسائی پروگرام‘‘ کے تحت وفاقی پروگرام پر نظرثانی کی بھی منظوری دی گئی۔

جاری منصوبہ کا مقصد دفاتر کی عمارات سمیت مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کے ساتھ قانونی، عدالتی، پولیس اور انتظامی اصلاحات پر عملدرآمد کرنا ہے۔ ایکنک نے 18346.60 ملین روپے کی لاگت سے پاکستان ریلویز کے لودھراں۔ملتان۔خانیوال۔شاہدرہ باغ مین لائن سیکشن سے پرانے اور فرسودہ سگنل گیئر کی تبدیلی کی بھی منظوری دی۔ اس منصوبہ کے دائرہ کار میں یوسف والا ریلوے سٹیشن کی ری ماڈلنگ اور 24 بغیر پھاٹک ریلوے لیول کراسنگ کو پھاٹک والی ریلوے کراسنگ میں بدلنا شامل ہے۔