سویلین ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (سواں گارڈن) میں ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے چار ارب روپے کی کرپشن کے ثبوت سامنے آگئے

سوسائٹی کو سدھارنے کیلئے مقرر کئے گئے ایڈمٹنسٹریٹر اپنی حالت سدھار کر چلے گئے کرپشن کی روک تھام کیلئے قائم ادارے بھی خاموش،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھی کرپٹ ٹولے کیخلاف بے بس ہوگئی

منگل اپریل 20:45

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) سویلین ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (سواں گارڈن) میں ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے چار ارب روپے کی کرپشن کے ثبوت سامنے آگئے ہیں۔سوسائٹی کو سدھارنے کیلئے مقرر کئے گئے ایڈمٹنسٹریٹر اپنی حالت سدھار کر چلے گئے۔۔کرپشن کی روک تھام کیلئے قائم ادارے بھی خاموش ہوگئے۔۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھی کرپٹ ٹولے کیخلاف بے بس ہوگئی۔

سرکل رجسٹرار آفس اور محکمہ کوآپریٹوز نے نئے الیکشن کروانے کی بجائے ایک بار پھر ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کرکے جیبیں بھرنے کا منصوبہ بنالیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دیگر کوآپریٹوہاؤسنگ سوسائٹیز کی طرح سویلین ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی بھی ضلعی انتظامیہ اور منتخب عہدیداروں کیلئے کرپشن نگری بن چکی ہے۔

(جاری ہے)

سرکاری طورپر کرائے گئے آڈٹ کے مطابق اس بدقسمت سوسائٹی کے سابق منتخب عہدیداروں نے تصدیق شدہ اڑھائی ارب روپے کی کرپشن کی تھی لیکن سرکل رجسٹرار اور محکمہ کوآپریٹوز کسی ایک شخص کیخلاف بھی کارروائی نہیں کرسکا۔

کرپشن کا یہ سلسلہ آگے بھی چلتا رہا اورسرکاری آڈٹ نے موجودہ منتخب باڈی کو60 کروڑ روپے کی کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اس سے زیادہ قابل تشویش بات یہ سامنے آئی ہے کہ کرپشن کو روکنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی آشیرباد سے جو ایڈمنسٹریٹر مقرر کئے گئے،انہوں نے سوسائٹی کو بہتر بنانے کی بجائے اپنی ذاتی معاشی حالت کو بہتر بنایا اور رفوچکر ہوگئے۔

سوسائٹی کے پہلے ایڈمنسٹریٹر نے سرکاری ریکارڈ کے مطابق60 کروڑ روپے کے قیمتی پلاٹوں کو فروخت کرکے مال جیب میں ڈال لیا چونکہ ایڈمنسٹریٹر ضلعی انتظامیہ کا اسسٹنٹ کمشنر بھی تھا اس لئے سرکل رجسٹرار اور محکمہ کوآپریٹوز نے نہ صرف اس کرپشن پر مجرمانہ غفلت برتی بلکہ کیئرٹیکر کمیٹی کا سربراہ ایک ایسے شخص عالم زیب کو بنا دیاگیا جو کہ مقامی لینڈ مافیا کے سرغنہ نواز خان کا قریبی عزیز تھا۔

عالم زیب نے ضلعی انتظامیہ کی چھتری تلی80 کروڑ روپے کا ٹیکہ سوسائٹی کو لگایا اور اس سے الگ ہوگئے۔اس کے بعد ایک اور مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کو ایڈمنسٹریٹر بنایا گیا جس نے مختصر مدت کے دوران اپنی خدمات کے عوض مبینہ جعلی بلوں کے ذریعے 65لاکھ روپے نکلوا کر جیب میں ڈال لئے۔سوسائٹی میں ہونیوالی اس کرپشن کو روکنے کیلئے سینیٹر کلثوم پروین معاملے کو قائمہ کمیٹی میں لیکر گئیں لیکن کرپٹ ٹولے کیخلاف کچھ نہیں ہوپایا۔

قابل غور پہلو یہ ہے کہ کرپشن کے الزام میں ایف آئی اے کو کئی درخواستیں شہریوں کی طرف سے دی گئیں لیکن کسی بھی ضلعی انتظامیہ کے عہدیدار کیخلاف ایف آئی اے نے کارروائی نہیں کی۔اس حوالے سے سرکل رجسٹرار مظہرحسین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ سوسائٹی میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے اور ہم نے سابقہ عہدیداروں کا بھی آڈٹ کروایا تھا اور موجودہ کا بھی کروایا ہے۔

سابقہ باڈی نے دو ارب 56 کروڑ روپے کی کرپشن کی اور موجودہ نی60 کروڑ روپے کی کرپشن کی اور اگر کسی ایڈمنسٹریٹر نے کرپشن کی ہے تو متعلقہ فورم پر متاثرین درخواست دینے کا حق رکھتے ہیں اور جہاں تک الیکشن نہ کروانے کا تعلق ہے تو اب ہم نے فیصل سلیم کو الیکشن کمشنر مقرر کردیا ہے اور موجودہ عہدیدار فیصل سلیم کو ووٹرز لسٹیں فراہم نہیں کر رہے،اس وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو رہی ہے۔

دریں اثناء الیکشن کمشنر فیصل سلیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوںنے کہا کہ میں دوخطوط سرکل رجسٹرار اور دو خطوط سوسائٹی کے عہدیداروں کو لکھ چکا ہوں لیکن مجھے ابھی تک کسی طرف سے بھی ووٹر لسٹیں فراہم نہیں کی جارہیں اگر مجھے آج ووٹر فہرستیں مل جائیں تو ایک ہفتہ میں الیکشن کروا سکتا ہوں۔اس صورتحال کے حوالے سے سویلین ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے صدر انصر گوندل کا کہنا ہے کہ ہم نے ممبران کی بہتری کیلئے انتھک محنت کی ہے اگر سرکل رجسٹرار آفس نے آڈٹ کروایا ہے اور سابقہ اور موجودہ عہدیداروں کیخلاف کرپشن کے ثبوت سامنے آگئے ہیں تو پھر وہ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اڑھائی ارب روپے کی کرپشن کرنیوالوں کیخلاف کارروائی نہیں کر رہے اور ہمارے خلاف آئے روز کوئی نہ کوئی کارروائی کردیتے ہیں۔

انصر گوندل نے کہا کہ سرکل رجسٹرار آفس کو آڈٹ کروانے کا پورا حق حاصل ہے لیکن جب ضلعی انتظامیہ کے ایڈمنسٹریٹر سوسائٹی کے فنڈز اور پلاٹ لوٹ کر لے گئے تو انکے خلاف یہ کیوں خاموش ہو جاتے ہیں۔ہماری طرف سے الیکشن میں کوئی روکاٹ نہیں ہے یہ خود ہی الیکشن کا اعلان کرتے ہیں اور خود ہی اس میں توسیع کردیتے ہیں۔الیکشن کیلئے ہمارا ہوم ورک مکمل ہے ،ووٹر لسٹیں رجسٹرار آفس کے پاس موجود ہیں لیکن کسی اور کو فائدہ پہنچانے کیلئے یہ سارا کھیل کھیلا جارہا ہے۔

سوسائٹی ممبران جانتے ہیں کہ کام کس نے کیا ہے اور واردات کس نے کی ہی سوسائٹی کے ممبران احتجاج کرنے میں حق بجانب ہیں۔ہماری خواہش ہے کہ سرکل رجسٹرار آفس اپنی پٹاری کھول دے تاکہ ہم بھی میڈیا کے ذریعے بتائیں کہ ایڈمنسٹریٹر لگا کر عوام کی جمع پونجی لوٹنے کا کون ارادہ رکھتا ہی۔

متعلقہ عنوان :