طیبہ تشدد کیس،سابق جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کو ایک سال قید کی سزا سنادی گئی

بدھ اپریل 08:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کو ایک سال قید کی سزا سنادی، راجہ خرم علی خان اور ماہین ظفر کو 50 پچاس ہزار جرمانہ، دونوں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا،گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے مقدمے کا فیصلہ جسٹس عامر فاروق سنا دیا،عدالت نے ملزمہ ماہین ظفر اور راجہ خرم علی خان کو بھی طلب کررکھا تھاحتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 27مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016میں سامنے آیامعاملہ میڈیا پر آیا تو پولیس نے 29 دسمبر کو سابق جج راجہ خرم علی خان کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لیکر کارروائی شروع کی دونوں ملزمان کیخلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا 3جنوری 2017کو طیبہ کے والدین نے راجہ خرم اور اسکی اہلیہ کو معاف کردیا راضی نامے کی خبر نشر ہونے پر اگلے روز چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے 8جنوری 2017 کو طیبہ کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے سے بازیاب کراکے پیش کیاعدالتی حکم پر 12جنوری 2017کو راجہ خرم علی خان کو کام سے روک دیا گیاچیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوایااور 10فروری کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف علی نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی توثیق کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کیا مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے گواہوں میں گیارہ سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھی.