اسرائیلی حکام فلسطینیوں کی ملکیتی عمارتوں کو منہدم کرنے کے منصوبے اور مغربی کنارے میں فلسطینی بدوی قبائل کی منتقلی کے منصوبے ختم کریں،جیمی میک گولڈرک

اقوام متحدہ کے ہیومینٹرین کوآرڈینیٹر کا اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ڈائریکٹر اور فلسطینی حکام کے ہمراہ خان الاحمر ابوالحیلو نامی علاقوں کا دورہ

جمعرات اپریل 16:02

اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) اقوام متحدہ کے ہیومینٹرین کوآرڈینیٹر جیمی میک گولڈرک نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کی ملکیتی عمارتوں کو منہدم کرنے کے منصوبے اور مغربی کنارے میں فلسطینی بدوی قبائل کی منتقلی کے منصوبے ختم کریں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے کے علاقے خان الاحمر میں موجود صورتحال پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور انہیں اس صورتحال پر سخت تشویش ہے۔

انہوں نے مغربی کنارے میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ڈائریکٹر آف آپریشنز سکاٹ اینڈ رسن اور فلسطینی حکام کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی مضافاتی علاقے میں خان الاحمر ابوالحیلو نامی علاقوں کا دورہ کیا۔ دورہ کے بعد جاری بیان میں انہوں نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل عالمی برادری کی طرف سے عائد قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور ایک قابض قوت کی حیثیت سے فلسطینیوں کی عمارت منہدم اور فلسطینی بدوی قبائل کو دیگر مقامات پر منتقل نہ کرے۔

(جاری ہے)

اس علاقے میں کل 181 افراد مقیم ہیں جن میں سے 53 فیصد بچے ہیں اور ان میں 95 فیصد اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کے پاس مہاجرین کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اس علاقے میں زور زبردستی کا ماحول پیدا کررکھا ہے اور اس ماحول میں ان فلسطینی باشندوں کو ان کے علاقے سے نکال باہر کرنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ باشندے 46 خانہ بدوش فلسطینی قبائل کا حصہ ہیں ۔

اسرائیلی حکام نے ان لوگوں کو خان الاحمر سے نکال کر یہاں یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس منصوبے کے لئے اسرائیلی حکام فلسطینیوں کی رہائشی عمارتوں حتیٰ کہ بین الاقوامی امداد سے تعمیر ہونے والے سکول کی عمارت کو بھی منہدم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ لوگ قبل ازیں اس علاقے سے نکالے گئے تھے جو اب جنوبی اسرائیل کا حصہ ہے۔ یہ لوگ اپنے آبائی علاقوں میں جانے کی جدوجہد کررہے ہیں اور اس جدوجہد میں انہیں عالمی برادری کی اخلاقی حمایت حاصل ہے۔

سکاٹ اینڈرسن کے مطابق اسرائیلی حکام کا ان لوگوں کو ان کے علاقے سے نکال کر یہاں یہودی بستی کی تعمیر کا معاملہ اسرائیلی عدالت میں ہے تاہم ایک بات یقینی ہے کہ اس علاقے سے نکالے جانے والوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔