سیڈ وینچرز کا پرنس ٹرسٹ انٹرنیشنل کے عشائیے میں انٹرپرائز چیلنج پاکستان کا اعلان

سیڈ وینچرز پاکستان کے سی ای او، فراز خان نے ای سی پی کا اعلانCHOGM۸۱۰۲ کے موقع پر کیا اورنئی جنریشن کے انٹرپرینیورز کو متاثر کرنے کے عمل پر گفت و شنید کی

جمعرات اپریل 17:27

سیڈ وینچرز کا پرنس ٹرسٹ انٹرنیشنل کے عشائیے میں انٹرپرائز چیلنج پاکستان ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) ویلز کے شہزادے سے دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان نے شہزادے کی جانب سے دئیے گئے عشائیے میں ملاقات کی جو حال ہی میں سینٹ جیمس کے محل میں منعقد کیا گیا۔سیڈ وینچرز پاکستان کے سی ای او، فراز خان اس موقع پر موجود تھے جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے یہ بتایا کہ کیسے پرنس ٹرسٹ انٹرنیشنل انٹرپرائز چیلنج پروگرام انٹرپرینورز کی نئی جنریشن کو متاثر کررہاہے۔

ایونٹ میں دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان کا استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ویلز کے شہزادے اور دی پرنس انٹرنیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین لائیڈڈورفمین نے پرنس ٹرسٹ انٹرنیشنل کے کام پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ٹرسٹ کئی پارٹنرز کے ساتھ روزگار، تعلیم اور تربیت کے کئی منصوبوں پر کام کررہاہے۔

(جاری ہے)

ویلز کے شہزادے نے اس موقع پر اُن نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی زندگیوں پر اُن کے ٹرسٹ کی معاونت سے مثبت اثر ہوا ہے اور اُن کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرسٹ ایسے مزید مواقع ڈھونڈنے میں مصروف عمل ہے جن سے دولت مشترکہ کے ممالک میں مزید روزگار، بہبود اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ دی پرنس انٹرنیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین لائیڈڈورفمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری مالی معاونت کے اغراض و مقاصد میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور تعلیم فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا2015ء میں آخری CHOGM کے آغاز کے بعد پرنس ٹرسٹ میں ترقی ہوئی ہے ۔

ہم دولت مشترکہ کے نو رکن ممالک بشمول پاکستان میں کام کررہے ہیں۔دی پرنس ٹرسٹ انٹرنیشنل انٹرپرائز چیلنج پروگرام جسے پاکستان میں سیڈ وینچرز سنبھال رہی ہے ، نوجوانوں کو کاروباری ہنرمندی سکھانے میں سرگرم عمل ہے۔2016ء میں پاکستان بھر کے 20اسکولوں میں کامیابی کے ساتھ شروع کرنے کے بعد ، گزشتہ سال مزید 45اسکولوں تک دائرہ کار کو بڑھایا گیا ہے جس سے 600سے ذائد بچے مستفید ہونگے۔

فراز خان نے کہا سیڈ کا بنیادی مقصد ملک میں انٹرپرائز کی ترقی ہے اور ہم مانتے ہیں کہ نوجوان ماحولیات کی بہتری میں زیادہ بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔اسی لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں انٹر پرائزچیلنج پاکستان کے معیار، احاطے اور رفتار کو ترجیحی بنیادوں پروسیع کیا جائے ۔ہمیں کم عمری میں ہی بچوں کی زہن سازی کرنی ہے کیونکہ بچے یا نوجوان ہی ہمارا اصل سرمایہ ہیں اور وہ ہی ہمیں درپیش چیلنجز سے زیادہ بہتری سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں جو ہماری ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔

2018ء میں سیڈ وینچرز اپنا احاطہ 1000بچوں تک بذریعہ 70اسکولوں بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ سیڈ کی قابل رشک کامیابی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ہر خطے میں اپنی چھاپ قائم کردی ہے اور ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی اس کی پہنچ ہوگئی ہے۔

متعلقہ عنوان :