خواجہ اظہار الحسن نے سندھ یونیورسٹی میں اردو زبان پر پابندی کا معاملہ صوبائی اسمبلی کے ایوان میں اٹھاکر سخت احتجاج کیا

جمعرات اپریل 23:02

خواجہ اظہار الحسن نے سندھ یونیورسٹی میں اردو زبان پر پابندی کا معاملہ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے سندھ یونیورسٹی میں اردو زبان پر پابندی کا معاملہ صوبائی اسمبلی کے ایوان میں اٹھاکر سخت احتجاج کیا ہے۔

(جاری ہے)

جمعرات کو ایوان کی کارروائی کے دوران اپنے نکتہ اعتراض پر انہوں نے سندھ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کئے جانے والے ایک نوٹیفیکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ یونی ورسٹی کی جانب سے ایک خط جاری ہوا ہے کہ کیمپس میں لگے سائن بورڈز پر تحریر صرف انگریزی اور سندھی میں ہونی چاہیے،اسکی تحقیقات کی جائے اگر یہ درست ہوا تو اسمبلی میں قرارداد لائینگے اورہم ہر سیشن میں احتجاج کرینگے۔

خواجہ اظہار نے کہا کہ یہ خط غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتاہے ،اردو ملک کی قومی زبان ہے اور اس پر پابندی لگائی گئی ہے،ایسا نوٹیفکیشن قائداعظم کے افکار سے انحراف ہے۔ وزیر تعلیم جام مہتاب نے کہا کہ انہیں ایسے کسی نوٹفیکیشن کے اجرا کا علم نہیں ہے وہ اس معاملے کی چھان بین کریں گے اور ایوان کو درست صورتحال کے بارے میں آگاہ کردیں گے۔