ملک میں صحافت کی آزادی کیلئے مستقبل میں کوئی خطرہ نہیں

صحافیوں کو خود پرسیلف سنسر شپ لگانی پڑے گی: ڈاکٹر مغیث

جمعہ اپریل 17:28

ملک میں صحافت کی آزادی کیلئے مستقبل میں کوئی خطرہ نہیں
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) سکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیزیوسی پی، کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے گزشتہ رات وائس آف امریکہ کے پرہگرام جہان رنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جو لوگ آزادیء صحافت کے علمبردار ہیں وہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاید ایک ادارہ ایسا ہے کہ جو ملک کے دفاعی مواملات کے بارے میں پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف رہا ہے اور اب بھی کسی نہ کسی طریقے سے یہ کام کرتا رہتا ہے۔

(جاری ہے)

بعض اوقات حکومت بھی اور وہ ادارے بھی فائدہ اٹھا کر اکثر لائن کراس کر جاتے ہیں اور ان میڈیاز کو دیوار سے لگا نے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مغیث کا مزید کہنا تھا کہ وہ ملک میں صحافت کی آزادی کیلئے مستقبل میں کوئی خطرہ نہیں دیکھتے لیکن صحافیوں کو خود پر ایک سیلف سنسر شپ لگانی پڑے گی جسے ذمہ دار صحافت کہتے ہیں اور حکومت کو قومی مفادات کی واضح نشاندہی کرنی ہوگی۔

متعلقہ عنوان :