کے الیکٹرک کی نجکاری کا فیصلہ ناکام ہوا، وفاقی اداروں کی لڑائی میں عوام پس گئے، رضا ربانی

ہفتہ اپریل 20:20

کے الیکٹرک کی نجکاری کا فیصلہ ناکام ہوا، وفاقی اداروں کی لڑائی میں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ حکومت سے پہلے بھی کہا تھا کہ یوٹیلٹیز کی نجکاری نہ کی جائے۔۔کے الیکٹرک کی نجکاری کافیصلہ ناکام ہوگیا، یہ نجکاری نہیں ہونی چاہیے تھی، کے الیکٹرک میں وفاقی حکومت کے شیئرز ہیں۔حکومت طیاروں سے جھنڈا ہٹانے کے لئے 30 ہزار ڈالر خرچ کرنے کو تیار ہے، مگر پی آئی اے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

(جاری ہے)

میڈیا سے بات چیت میں میاں رضا ربانی نے کہا کہ وفاق کے دو اداروں کی لڑائی سے کراچی کے عوام پس رہے ہیں، حکومت ادارے نہیں چلا سکتی، تو مزدوروں کو دے دیں۔انھوں نے کہا کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن وفاق کے ادارے ہیں، کے الیکٹرک اورسوئی سدرن کے درمیان تنازع سے عوام مشکل کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ انھوں نے پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ یوٹیلٹیز کی نجکاری نہ کی جائی. کے الیکٹراک کی نجکاری کا فیصلہ غلط ثابت ہوا۔انھوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پی آئی اے کے طیاروں سے پاکستان کا جھنڈا اتارا جارہا ہے، حکومت طیاروں سے جھنڈا ہٹانے کے لئے 30 ہزار ڈالر خرچہ کرنے کو تیار ہے، مگر پی آئی اے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے تیار نہیں. یہ افسوس ناک ہے۔