اڈیالہ جیل کی صفائی کسی ’’ایک‘‘ کے بجائے ’’سب‘‘ کے لیے کی جائے، حافظ حسین احمد

، بوٹ، نوٹ، کوٹ کے بعداب ووٹ کی عزت کی بات کی جارہی ہے، بدقسمتی سے سب سے زیادہ مارشل لاء پاکستان میں لگے ہیں، صحافیوں سے گفتگو

پیر اپریل 15:20

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین و جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل کی صفائی کسی ’’ایک‘‘ کے بجائے ’’سب‘‘ کے لیے کی جائے، بوٹ، نوٹ، کوٹ کے بعداب ووٹ کی عزت کی بات کی جارہی ہے، آئینی طور پر کسی میں ہمت نہیں کہ وہ مارشل لاء لگائے مگر بدقسمتی سے سب سے زیادہ مارشل لاء پاکستان میں لگے ہیں، زرداری کسی اورپر کم خود پر زیادہ ’’بھاری‘‘ ہیں۔

(جاری ہے)

جیکب آباد کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل صوبائی حکومت کے ماتحت آتا ہے اس لیے اس میں صفائیاں ہورہی ہیں ،،جیل میں ہر وقت صفائی ہوتی رہے تو بہتر ہے ورنہ قیدی بھی دعائیں کریں گے کہ کوئی ’’بڑا‘‘ جیل آئے تاکہ جیل کی صفائی ہو، اڈیالہ جیل کو کسی ’’ایک‘‘ کے بجائے ’’سب‘‘ کے لیے صاف کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ماضی کے چار ادوار میں مختلف نعرے تخلیق کئے گئے، پہلے کچھ عناصر بوٹ کی عزت کی بات کرتے تھے اس کے بعد ایک وقت ایسا آیا کہ ’’نوٹ‘‘ کی عزت کی باتیں کی گئیں،،میمو گیٹ کے بعد ’’کوٹ‘‘ کی عزت کی باتیں ہونے لگی اور اب ’’ووٹ‘‘ کی عزت کی بات کی جارہی ہے اللہ کرے وہ وقت بھی آئے جب ’’ووٹر‘‘ کی عزت کی بات کی جائے، انہوں نے کہا کہ اصل معاملہ ووٹ سے منتخب پارلیمنٹ کی عزت کی ہے اور سب سے بنیادی مسئلہ اس ووٹر کی عزت کا ہے جو ووٹ دینے والا ہے ، نواز شریف اس لیے ’’ووٹ کی عزت‘‘ کی بات کررہے ہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو عدالتوں میں گھسٹتا ہوا دیکھ رہا ہے وہ اپنی عزت کی بات کرتے ہیں منتخب اراکین کی عزت کی بات نہیں کرتے ، اگراراکین کو منتخب کرنے والوں کی عزت کی بات کی جائے اور ان کے مسائل کو حل کیا جائے تو یقینا پارلیمنٹ کو عزت ملے گی، ووٹر کو عزت ملے گی تو ’’ووٹ کی عزت‘‘ بحال ہوجائے گی، انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر کسی میں ہمت نہیں کہ وہ مارشل لاء لگائے مگر اس کے باوجود سب سے زیادہ مارشلائیں پاکستان میں لگی ہیں ، چیف جسٹس صاحب کہتے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی مارشل لاء نہیں لگا سکتا ہماری دعا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے اور ان کے بعد بھی کوئی مارشل لاء نہ لگائے اب عدالتی اور آئینی حوالے سے معاملات اس حد تک پہنچے ہیں کہ کسی بھی عریان مارشل لاء کے امکانات معدوم ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زرداری کسی اور پر بھاری ہو یا نہ ہو وہ خود پر ضروری بھاری ہیں کیوں کہ جو شخص بھاری ہوتا ہے وہ سب سے پہلے اپنے اوپر بھاری ہوتا ہے اس کا بھاری پن پہلے اس کو نقصان پہنچاتا ہے اس لیے بھاری ہونے سے بہتر ہیں کہ انسان ’’سمارٹ‘‘ ہو جس سے اس کا اپنا فائدہ ہوتا ہے ۔