پرائیویٹ سکولزمالکان کے DMOنوٹیفکیشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے

پیر اپریل 18:14

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور جائنٹ ایکشن کونسل کی اپیل پر پیر کے روزصوبہ بھرمیں تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔صوبے کے مختلف شہروں میں تعلیمی اداروں کے سربراہان نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے غلط اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کی اپیل پر رنگ روڈ پشاور سے نجی سیکٹر کے مختلف ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا ایک احتجاجی قافلہ صوبائی نائب صدر PEN فضل اللہ داودزئی اور ضلع پشاور کے صدر شبیر احمد کی قیادت میں پشاور پریس کلب پہنچا۔

اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہم دراصل معیاری تعلیم بچاو تحریک چلا رہے ہیں حکومت اپنی 45% فیصد شراکت دار کو اعتماد میں نہیں لے رہی ،حکومت اپنی بنائی گئی ریگولیٹری اتھارٹی صوبائی اسمبلی سے پاس شدہ ایکٹ پر عمل درآمدنہیں کر رہی ہے ۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ ہم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ڈی ایم او کے زیرنگرانی IMU کو مسترد کرتے ہیں،حکومت نجی سیکٹر کو اعتماد میں لیکر قانون سازی کرے۔۔پشاور کے علاوہ جنوبی اضلاع میں ریگولیٹری اتھارٹی کے ممبرسید انس تکریم کاکاخیل کی سربراہی میں جبکہ ملاکنڈ اورہزارہ ڈویژن میں بھی پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔