وفاقی انتظامیہ اسلام آباد کو تمباکو کے دھوئیں سے پاک شہر بنانے کیلئے کوشاں ہے، حکام

پیر اپریل 19:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ اسلام آباد کو تمباکو کے دھوئیں سے پاک شہر بنانے کیلئے کوشاں ہے اور اس ضمن میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آگاہی اور شیشہ و حقہ سمیت تمباکو کی روک تھام کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے۔ داخلہ ڈویژن کے حکام نے پیر کو بتایا کہ وزارت کیڈ کے تعاون سے یہ اقدام تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کو تمباکو کے دھوئیں سے پاک شہر بنانے کیلئے اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

ضلعی عملدرآمد اور نگران کمیٹی تمباکو کو کنٹرول کے تحت ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جس کے باقاعدہ اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ذرائع نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں شیشہ،، حقہ بار پر مکمل پابندی عائد ہے تاہم اس لعنت کے خلاف کارروائی ایک مسلسل عمل ہے جس کے خلاف ضلعی انتظامیہ پرعزم ہے۔

(جاری ہے)

ایکٹ 75ء کے تحت دکاندار یہ کاروبار چھوڑ کر نئے کاروبار شروع کر رہے ہیں جبکہ تمباکو نوشی نہ کرنے والے کے تحفظ کیلئے بنائے گئے نان سموکر ایکٹ 2002ء کا بھی نفاذ یقینی بنایا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کے قریب سگریٹ فروخت کرنے کی پابندی کے تحت تعلیمی اداروں کے قریب 80 فیصد دکانوں سے سگریٹ کی فروخت ختم کرائی ہے اور 2 ملین روپے کے محصولات ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں کیڈ کے تعاون سے ضلعی انتظامیہ نے 164 عوامی مقامات کو تمباکو سے پاک بنایا ہے جن میں ہوٹلز اور ریستوران، سکول، کالجز، یونیورسٹیاں اور بلند و بالا عمارتیں شامل ہیں اور سنٹوریس، سٹاک ایکسچینج کی عمارت، سعودی پاک ٹاور، زیڈ ٹی بی ایل، یو بی ایل ٹاور اور ایچ ای سی کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کئے گئے ہیں۔ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو سگریٹ کی فروخت اور دیگر اقدامات کے تحت تمام ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

متعلقہ عنوان :