کپاس کی پیداوار کے شعبہ میں تعاون کا فروغ تمام ممالک کے مفاد میں ہو گا،

سی فور ممالک دنیا میں کپاس کی مجموعی پیداوار کا 3 فیصد اور کپاس کی برآمدات کا 8 فیصد فراہم کرتے ہیں، پاکستان اور سی فور ممالک کے درمیان کپاس کی پیداوار کے حوالہ سے کئی چیزیں یکساں ہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سی فور ممالک بینن، برکینا فاسو، چاڈ اور مالی کے سفراء پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو

پیر اپریل 23:09

کپاس کی پیداوار کے شعبہ میں تعاون کا فروغ تمام ممالک کے مفاد میں ہو ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار کے شعبہ میں تعاون کا فروغ تمام ممالک کے مفاد میں ہو گا۔ انہوں نے یہ بات سی فور ممالک بینن، برکینا فاسو، چاڈ اور مالی کے سفراء پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کے دوران کہی جنہوں نے پیر کو وزیراعظم آفس میں ان سے ملاقات کی۔ وفد میں مسٹر ایلوئی لائورو مستقل نمائندہ/سفیر بینن آف مستقل مشن، مسٹر ڈیوڈون ون ویوگا دسری سوگوری مستقل نمائندہ برکینا فاسو، مسٹر ممدو کونیٹے مستقل نمائندہ مشن آف مالی، مسز نگارباتنین سولاتا ماری فرسٹ قونصلر چارج افیئرز مشن آف چاڈ اور دیگر شامل تھے۔

ملاقات میں نیشنل فوڈ سیکورٹی کے وفاقی وزیر سکندر حیات بوسن، ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر سیّد توقیر شاہ اور سینئر حکام موجود تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے وفد کو کپاس کی پیداوار میں تعاون بڑھانے، بیماریوں پر کنٹرول، ویلیو ایڈیشن اور اس شعبہ میں تحقیق کے حوالہ سے حکومت پاکستان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سی فور ممالک دنیا میں کپاس کی مجموعی پیداوار کا 3 فیصد اور کپاس کی برآمدات کا 8 فیصد فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان اور سی فور ممالک کے درمیان کپاس کی پیداوار کے حوالہ سے کئی چیزیں یکساں ہیں۔ وفد کے دورہ کا مقصد باہمی تعاون میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے تاکہ کپاس کی پیداوار کو بڑھایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی سکندر حیات بوسن نے ملک میں کپاس فصل کی پیداوار اور قومی معیشت کی جانب سے اس کی شراکت کا ایک جائزہ پیش کیا۔