ایمانداری، دیانتداری، محنت، عزم و حوصلہ اور پیشہ واریت کے بغیر کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، جسٹس (ر) جاوید اقبال

بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے شفافیت، بلند حوصلہ اور عزم و ہمت ناگزیر ہے،بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے مؤثر اور جامع حکمت عملی وضع کی ہے، افسران شفافیت، پیشہ واریت ، قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے محنت جاری رکھیں ،فارنزک لیبارٹری کے قیام سے بہت سے کیسز کے حل میں مدد ملی ہے، چیئرمین نیب

بدھ اپریل 19:33

ایمانداری، دیانتداری، محنت، عزم و حوصلہ اور پیشہ واریت کے بغیر کامیابی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ایمانداری، دیانتداری، محنت، عزم و حوصلہ اور پیشہ واریت کے بغیر کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے شفافیت، بلند حوصلہ اور عزم و ہمت ناگزیر ہے،بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے مؤثر اور جامع حکمت عملی وضع کی ہے، افسران شفافیت، پیشہ واریت ، قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے محنت جاری رکھیں ،فارنزک لیبارٹری کے قیام سے بہت سے کیسز کے حل میں مدد ملی ہے۔

بدھ کو جاری ایک بیان میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی کینسر اور خاموش قاتل ہے، نیب ہر قسم کی بدعنوانی کے خاتمہ اور اس ناسور سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نیب نے بدعنوان عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے مؤثر اور جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔ انہوں نے نیب افسران کو ہدایت کی کہ وہ شفافیت، پیشہ واریت اور قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے محنت جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے ’احتساب سب کا‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے نتائج پر مربوط عملدرآمد، کارکردگی کو مؤثر بنانے اور نیب کی استعداد کار کو فعال بنانے، نگرانی اور جائزہ کیلئے مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن کا مؤثر نظام وضع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب راولپنڈی میں فارنزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت دستیاب ہے، فارنزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے سیل فون، کمپیوٹرز، آئی پیڈز اور نیٹ ورک جیسے الیکٹرانک آلات سے دستاویزات کے دوبارہ حصول اور تحریری سوالات کی نشاندہی، چھپی ہوئی دستاویزات، سوالیہ دستاویزات میں دھوکہ دہی، دستاویزات میں اضافہ اور ان میں اوور رائٹنگ کا تجزیہ کرنے میں مدد ملی ہے۔

متعلقہ عنوان :