سرگودھا جیل میں تہرے قتل کے 2 مجرمان کی پھانسی عمل درآمد سے قبل فریقین میں صلح پرروک دی گئی

فریقین نے صلح نامہ پر دستخط کر دیئے جس پر ڈیوٹی جج نے پھانسی روک کر رپورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بجھوا دی

جمعرات اپریل 13:32

سرگودھا جیل میں تہرے قتل کے 2 مجرمان کی پھانسی عمل درآمد سے قبل فریقین ..
سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ڈسٹرکٹ جیل سرگودہا میں تہرے قتل کے 2 مجرمان کی پھانسی فریقین میں صلح پر ایک بار پھر روک دی گئی۔زرائع کے مطابق پھانسی سے قبل جیل میں فریقین نے صلح نامہ پر دستخظ کر دیئے جس پر ڈیوٹی جج نے پھانسی روک کر رپورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بجھوا دی۔ جو مزید کاروائی کریں گے۔جہنوں نے 26 اپریل کو پھانسی کے لئے ڈیتھ وارنٹ دے کر سول جج رانا الیاس بشیر کو مقرر کیا۔

زرائع کے مطابق فریقین میں کئی روز سے صلح کی کوششں جاری تھیں 19 اپریل کے پھانسی کے احکامات بھی صلح کی درخواست پر موخر کر دیئے گے اور اس صلح کے نا مکمل ہونے پر 26 اپریل کے لئے بلیک وارنٹ جاری ہوئے جو پھانسی کے وقت سے قبل صلح نامہ دینے پر پھر روک دیئے گے۔اب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صلح کی دستاویزات مکمل ہونے پر فیصلہ دیں گے۔

(جاری ہے)

پھانسی کی2 مجرمان امجد علی ولد محمد قوم نول بھٹی اور خضر حیات ولد پہلوان قوم نول بھٹی سکنہ کیسو پور کوتھانہ بھیرہ کو مقدمہ نمبر89/05بجرم 302/324/452/148/109/7ATA مورخہ 05-07-05کے تحت محمد اسلم ولد جہان خان عرف جہانہ،محمد رمضان ولد جہان خان عرف جہانہ،مسماة کوثر پروین دختر جہان خان عرف اقوام نول بھٹی سکنہ کیسو پور کے قتل اور مسماةبشراں بی بی دختر جہان خان عرف جہانہ کو مضروب کرنے کے جرم میں بعدالت سپشل جج انسداد دہشت گردی عدالت سرگودہا سے سزائے موت ہوئی۔

جس پر صدر پاکستان سے مجرمان کی سزائے موت کی رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعدڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب سرگودہا نے گورنمنٹ آف پنجاب ہو م ڈیپارٹمنٹ لاہور کے حکم کی روشنی میں ملزمان کو مورخہ 26-04-2018بوقت 05.30بجے صبح پھانسی ڈسٹرکٹ جیل سرگودہا میں دینے کے لئے بلیک وارنٹ جاری کئے تھے۔اس سے قبل 19 اپریل کے ڈیتھ وارنٹ صلح کی درخواست پر موخر ہوئے اور دوبارہ 26 اپریل پھانسی کے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گے۔ جن پر عمل درآمد سے قبل ورثاء کی آخری ملاقات بھی کروادی گئی۔ لیکن عمل درآمد سے قبل فریقین نے صلح کی دستاویزات پر دستخط کر کے ڈیوٹی سول جج کو دیئے جہنوں نے عمل درامد روک کر رپورٹ سیشن کورٹ کو بجھوا دی۔