فارن اکائونٹس، املاک کیس ، ایک سال میں 50 ہزآر ڈالر سے زائد ٹرانزیکشن کا ریکارڈ طلب،

تفصیلات سربمہر لفافے میں پیش کی جائیں، سپریم کورٹ ہم فارن کرنسی اکائونٹس کی معلومات چاہتے ہیں ‘ ہو سکتا ہے کہ بیرون ملک کچھ املاک قانونی طریقے سے خریدی گئی ہوں ‘ اصل سوال یہ ہے کہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقم واپس کیسے آئیں گی ‘ جن کے بیرون ملک اکائونٹس اور املاک ہیںان لوگوں کی نشاندہی کرنی ہے‘ کیا اسٹیٹ بنک کے پاس معلومات ہیں کہ کس نے کتنے ڈالر بیرون ملک بھیجے ، چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

جمعرات اپریل 17:41

فارن اکائونٹس، املاک کیس ،  ایک سال میں 50 ہزآر ڈالر سے زائد ٹرانزیکشن ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیداد اور بنک اکائونٹس پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم فارن کرنسی اکائونٹس کی معلومات چاہتے ہیں ‘ ہو سکتا ہے کہ بیرون ملک خریدی گئی کچھ املاک قانونی طریقے سے خریدی گئی ہوں ‘ اصل سوال یہ ہے کہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقم واپس کیسے آئیں گی ‘ ان لوگوں کی نشاندہی کرنی ہے جن کے بیرون ملک اکائونٹس اور املاک ہیں‘ کیا اسٹیٹ بنک کے پاس معلومات ہیں کہ کس نے کتنے ڈالر بیرون ملک بھیجے ‘ گورنر اسٹیٹ بنک نے جواب دیا کہ بنکوں سے ایسی معلومات لے سکتے ہیں۔

جمعرات کو پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیداد اور بنک اکائونٹس پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ حکومت کے آرڈیننس عدالت میں پیش کرنے ہیں‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم فارن کرنسی اکائونٹس کی معلومات چاہتے ہیں ‘ بیرون مک املاک بھی خریدی گئیں۔ ہو سکتا ہے کچھ املاک قانونی طریقے سے خریدی گئی ہوں۔

ہمیں بتا دیں وہ رقم واپس کیسے آ سکتی ہی ۔ اصل سوال یہ ہے کہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقم واپس کیسے آئے جن کے بیرون ملک اکائونٹس اور املاک ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ یہ بات (ٹی آر اوز ) میں شامل نہیں تھی۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پتہ چلنا چاہیے کہ کتنے پاکستانیوں کے سوئزر لینڈ میں اکائونٹس اور املاک ہیں۔ ہماری اس بات کو اہمیت نہیں دی گئی۔

ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کتنا پیسہ بیرون ملک چلا گیا۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ عدالت نے ایڈووکیٹ خالد انور کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ۔ رپورٹ آ چکی ہے۔ اس بات کا احاطہ ہو نا چاہیے کہ بیرون ملک پیسہ کیسے گیا ‘ موجودہ قوانین اور معاہدوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اسٹیٹ بنک کے پاس معلومات ہیں کہ کس نے کتنے ڈالر بیرون ملک بھیجے۔

جس پر گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ بنکوں سے ایسی معلومات لے سکتے ہیں ۔۔چیف جسٹس ثاقب نار نے کہا کہ ایک سال میں جتنی رقم باہر بھیجی گئی ساری معلومات ہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ اسٹیٹ بنک خود ایسی معلومات نکال کر جائزہ کیوں نہیں لیتا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈالر آج 118 روپے پر چلا گیا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اثاثوں کو پکڑے کیلئے فارن اکائونٹس میں ٹرانزکشن کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بنک نے کہاکہ 1992ء کے قانون کے مطابق یہ ٹرانزیکشنز خفیہ ہوتی ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 1992ء کا قانون دکھا دیں اس کو معطل کر دیتے ہیں۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی تفصیلات واضح کی جائیں ۔افسران نان کسٹم پیڈ گاڑیاں خود استعمال کرتے ہیں۔ ایسی پالیسیاں خود بنائی گئیں کہ پیسہ بیرون ملک چلا جائے۔ یہ ریاست کی ناکامی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ((ایف بی آر)) کے پاس کوئی چھڑی نہیں ہے تو ایمنسٹی سکیم کیوں دیدیتے ہیں گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کے بعد سہولتیں حاصل کرنے والوں کی معلومات آ جائیں گی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ اثاثوں کو پکڑنے کیلئے فارن اکائونٹس میں ٹرانزیکشن کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پوچھا کہ جہانگیر ترین نے کتنے ملین ڈالر بیرون ملک بھیجے۔ جہانگیر ترین نے باہر اثاثے بنا لئے ہیں۔ اور انہوں نے گوشواروں میں کچھ اور بتایا ہے۔ عدالت نے فارن اکائونٹس اور املاک کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ایک سال میں 50 ہزآر ڈالر سے زائد کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ طلب کر لیا اور حکم دیا ہے کہ تفصیلات سربمہر لفافے میں پیش کی جائیں۔ …