موجودہ اسمبلیاں ریاست کے مالی اخراجات پورے کرنے اور چلانے کیلئے بجٹ پیش کرنے کی مجاز ہیںاور اس پر کوئی آئینی و قانونی قدغن نہیں، پارلیمنٹ کے منظور کردہ کسی قانون کو آئین کی کسوٹی پر پرکھنے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے تاہم یہ اختیار سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے، ازخود نوٹس کیلئے پیمانہ طے کرنے کی ضرورت ہے

صدرلاہور ہائیکورٹ بار ا نوار الحق پنوں کا اے پی پی کو انٹرویو

جمعرات اپریل 22:14

لاہور۔26 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر سابق جج ہائیکورٹ انوار الحق پنوں نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں ریاست کے مالی اخراجات پورے کرنے اور چلانے کیلئے بجٹ پیش کرنے کی مجاز ہیںاور اس پر کوئی آئینی و قانونی قدغن نہیں، اپنی مدت پوری کرنے کے قریب اسمبلیوں کے بجٹ پاس کرنے میں کوئی قانون و آئینی رکاوٹ نہیں ، پارلیمنٹ کے منظور کردہ کسی قانون کو آئین کی کسوٹی پر پرکھنے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے تاہم یہ اختیار سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے، ازخود نوٹس کیلئے پیمانہ طے کرنے کی ضرورت ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر انوار الحق پنوں نے ان خیالات کا اظہار اے پی پی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بار بنچ کی سپاہی نہیں بلکہ اس کا کام بنچ پر نظر رکھنا ہے اور دونوں کا مقام برابر ہے، بار کے وکلاء میں ہی سے لوگ جج بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کر کے ججز تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کے عمل سے جوڈیشل کمیشن میں ججوں کی تعداد بڑھ گئی جسکے نتیجے میں اس کی ہیت تر کیبی میں توازن نہ رہا۔

ججزکی زیادہ تعداد کے سامنے بار کے ایک ممبر کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ججز تقرری کے موجودہ عمل پر ہمیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ کسی قانون کو آئین کی کسوٹی پر پرکھنے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے تاہم یہ اختیار سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ازخود نوٹس (سوموٹو) کے اختیار کا تعلق ہے اس کیلئے ایک پیمانہ طے کرنے کی ضرورت ہے، اس کا غیر ضروری استعمال نا مناسب ہے جبکہ پارلیمینٹ میں جانیوالے منتخب سیاستدانوں کو بھی ووٹ کا احترام کرتے ہوئے شفاف قانون سازی کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کا عملی تقاضا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھی ازخود مالی آڈٹ کرانا چاہئے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر انوار الحق پنوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وکلاء تحریک میں بعض وکلاء کو جج بنانے کے وعدے بھی کئے، بحالی کے بعد انہوں نے عدالت میں بیٹھ کر سیاست کی اورعدالتی آمر بن بیٹھے، 103 قابل و تجربہ کار ججوں کو نکال باہر کیا اور اپنے من پسند ججز کو لے آئے۔

وکلاء تحریک کو محض شو پیس کے طور پر رکھا گیا بادی النظر میں عدلیہ بحالی کا حکم کسی اور جگہ سے آیا حالانکہ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری افتخار محمد چودھری کی بحالی نہیں چاہتے تھے، افتخار محمد چودھری نے وکلاء کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ وکلاء میں تشدد کے عنصر کے سوال پرانہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کے بعد وکلاء میں تشدد کا عنصر بڑھا۔

انہوںنے کہا کہ وکلاء کو پیشہ وارانہ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے، وکلاء ایمانداری کے ساتھ سائلین کے کیسوں کی تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہوںاور فیصلے عدالتوں پر چھوڑیں۔ وکلاء کا محض پیسے کیلئے کسی کیس کا چھوڑنا یا حاصل کرنا نامناسب ہے۔ انتخابات سے پہلے احتساب کے نعرے کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے احتساب پھر انتخاب کا یہ نعرہ بھٹو دور سے لیکر مشرف دور تک بھی لگتا رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات کا انعقاد بروقت ہونا چاہئے، اسے احتساب کے نعرے کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات ہمیشہ ہوتی رہنی چاہئیں، عدالتوں کی توہین نہیں کرنا چاہئے جبکہ عدالتوں کو بھی عام سائلین کے مقدمات کو بروقت نمٹانے میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔