بلدیہ ٹائون میں پانی نایاب ،شدید گرمی میں عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

پانچ دن بعد پانی صرف 13 گھنٹے کھلنے کے بعد بند ، واٹر بورڈ، ہائیڈرینٹس انتظامیہ اور ٹینکر مافیا نے زندگی اجیرن بنا دی ہے،اہل علاقہ

جمعرات اپریل 22:44

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) کراچی کو پانی کی شدید قلت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔بلدیہ ٹائون میں پانی نایاب ہوگیا۔ عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ پانچ دن بعد صرف 13 گھنٹے پانی کھلنے کے بعد بند کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ ٹائون ہائیڈرینٹ پر 5دن بعد پانی کھلا لیکن صرف 13گھنٹوں کے بعد پانی بند ہو گیا۔ سیکڑوں افراد کئی دن ہائیڈرینٹ پر قیام کے باوجود پانی حاصل نہیں کر سکے۔

ان 13گھنٹوں میں صرف 380افراد کو ہی پانی مل سکا۔ پانی بند ہونے کے بعد لوگ مایوس گھروں کو حکومت کو بدعائیں دیتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔ عوام کے مطابق ہم ہائیڈرینٹ پر 24گھنٹے دھکے کھاتے ہیں،گھر کے کام کاج اور ڈیوٹی چھوڑ کر ہائیڈرینٹ پر آکر دن رات پانی کھلنے کا انتظار کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

عورتیں ،بچے ،بوڑھے افراد پانی کی خاطر ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن پانی نہیں مل رہا۔

اول تو پانی کھلتا نہیں ہے اور اگر پانی کھل بھی جائے تو ہائیڈرینٹ انتظامیہ اور ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے تحت مہنگے داموں فروخت کردیا جاتا ہے جبکہ غریب عوام اس شدید گرمی میں تپتی دھوپ میں پانی کھڑے رہتے ہیں ۔اس گرمی میں کئی لوگ ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو کر بے ہوش بھی ہوجاتے ہیں۔ہائیڈرینٹ پر عوام کے پینے کے کیلئے ٹھنڈا پانی اور دھوپ سے بچنے کے لئے شیلٹر بھی نہیں ہے۔

لوگ دن بھر دھوپ میں وقت گزارتے ہیں۔عوام کی شکایت کے متعلق جب ہائیڈرنٹ انتظامیہ کا مؤقف لیا گیا تو وہ عوام کو پینے کیلئے ٹھنڈا پانی اور شیلٹر فراہم کرنے کا واضح جواب نہیں دے سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم صرف ان لوگوں کو پانی فراہم کرتے ہیں جو لائن میں لگ کر پانی حاصل کرتے ہیں۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہمیں ہفتے میں 1سے 2 بار پانی ملتاہے تو ہزاروں افراد کو اتنے کم وقت میں پانی فراہم کر نا ممکن نہیں۔

ہائیڈرینٹ انتظامیہ کے مطابق اگر واٹر بورڈ ہمیں ہفتے میں 3 دن یعنی 72 گھنٹے پانی فراہم کرے تو ہم کافی حد تک عوام کی شکایت کو دور کرسکتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کے معاملات کا احساس ہے لیکن جب پانی کھلتا ہی نہیں تو لوگوں کو کیسے مطمئن کریں۔ اس سنگین مسئلے پر وہاں پر موجود ملک وقوم کے محافظ رینجرز اہلکاروں سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ صرف وہ لوگ ہی پانی حاصل کریں جو گھنٹوں لائن میں لگ کر پانی کھلنے کا انتظار کرتے ہیں لیکن چونکہ پانی ہفتے میں ایک سے دو بار کھلتا ہے۔

اس لئے اتنے بڑے علاقے کو پانی فراہم کرنا انتظامیہ کے لئے مشکل کام ہے ۔ کم پانی کھلنا ہی عوام اور انتظامیہ میں پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ ہائیڈرنٹس میں پانی کے مسئلہ پر چیئرمین یوسی 36 محمد رفیق تنولی سے ان کے دفتر میں جا کر بات کی تو انہوں نے بتایا کہ پانی کے مسئلے نے میری نیندیں اڑا دی ہیں۔ کئی مرتبہ کوشش کے باوجود میں اس مسئلہ کا حل نہیں نکال سکا۔

انہوں نے کہا کہ ہائیڈرنٹس انتظامیہ کس طرح لوگوں کو پانی فراہم کرتی ہے، میں ان کا سسٹم نہیں سمجھ سکا۔ علاقہ مکین جب میرے پاس پانی کی شکایت لے کر آتے ہیں تو میں بے بسی کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا۔ بلدیہ ٹائون کی پانی کو ترسی عوام نے سندھ حکومت مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف ہائیڈرنٹس انتظامیہ اور ٹینکر مافیا کی ملی بھگت کا سختی سے نوٹس لے بلکہ واٹر بورڈ کو بھی اس بات کا پابند بنائے کہ وہ ہفتے میں 72 گھنٹے پانی کی فراہمی کو ممکن بنائے۔