کاشتکاری کی مشینیں اس دور میں معیاری اور بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، سندھ حکومت

اب تک 28264 ٹریکٹرزپر 7498.10 ملین رپیہ سبسڈی دی جا چکی ہے اور وہ ٹریکٹر 948734 ہیکٹر زمین تیار کر رہے ہیں

جمعہ اپریل 22:26

کرا چی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) کاشتکاری کی مشینیں اس دور میں معیاری اور بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ اہمیت سبز انقلاب کے ساتھ شروع ہوئی اور دن بہ دن بڑہتی جا رہی ہے۔ مشین کے استعمال سے کھیتوں کے کام وقت پہ ہو جاتے ہیں اور زمین بھی زیادہ کاشت ہوتی ہے۔ان کے استعمال سے نہ صرف پیداوار میں بہتری آتی ہے بلکہ کاشتکاروں کی محنت و مشقت میں بھی کمی آتی ہے۔

اس کے علاوہ آمدن زیادہ اور غربت میں کمی آنے کے ساتھ خوراک کی قلت کا مسئلہ بھی حل ہو رہا ہے۔ مینی کاشت سے موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصان سے بھی بچا ئٴْ ہوتا ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سبز انقلاب کے بعد ہمارے ہاں مشینوں کے استعمال کی رفتار سست رہی ہے لیکن گزشتہ کافی برسوں سے محکمہ زراعت سندھ کی جانب سے کاشتکاروں کو زرعی مشینیں سبسڈی پہ دی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں ٹریکٹر کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے مالی سال 2009-10 سے ٹریکٹر کی سبسڈی اسکیم کا آغاز کیا گیا اور ہر سال دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 28264 ٹریکٹرزپر 7498.10 ملین رپیہ سبسڈی دی جا چکی ہے اور وہ ٹریکٹر 948734 ہیکٹر زمین تیار کر رہے ہیں۔اس مالی سال 2017-18 کے تحت 6200 ٹریکٹرس پہ 1500 ملین رپیہ کی سبسڈی اضلاع کی کوٹا کے مطابق دینے کے لیئے پریس اور فیلڈ عملے کے ذریعے اعلان کر کہ درخواستیں لی گئی۔

اس اعلان کے نتیجے میں ایگریکلچر انجنیئرنگ اینڈ واٹر مینجمنٹ سندھ کے ذریعہ 18329 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ درخواستیں حاصل کرنے کے وقت کاشتکاروں کی بینک کے اندر بائیو میٹرک تصدیق کی گئی اور اٴْن کا اٹیسٹیڈ زمین فارم-7 چیک کیا گیا۔ یہ ہی طریقا کامیاب کاشتکاروں کے لیئے ٹریکٹر کی ڈلیوری کے وقت بھی ہوگا۔ خاص طور پہ آن لائین ویریفکیشن روینیو ڈپارٹمینٹ سے ہوگا۔

کامیاب کاشتکار زرعی ورکشاپ پہ ٹریکٹر حاصل کریگا جہان پہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے نمائندے اور متعلقہ کمیٹی ممبران بھی موجود ہونگے۔بیلٹنگ کو صاف اور شفاف رکھنے کے لیئے کاشتکار تنظیموں کے نمائندگان، نیب اور پلاننگ اور ڈولپمینٹ بورڈ کے چیئرمین کے ساتھ ساری سندھ کے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ کائونسلز کے ممبران کو مدوع کیا گیا ہے۔

اس بیلٹنگ میں 6200 ٹریکٹرز پہ سبسڈی ضلعی کوٹا کے مطابق دی جائیگی۔ جس میں چھوٹے ٹریکٹرس کی تعداد 3825 ہے اور اٴْن کی سبسڈی دو لاکھ (200,000) فی ٹریکٹر ہے جب کیبڑی ٹریکٹرز کی تعداد 2375 ہے اور سبسڈی فی ٹریکٹر تین لاکھ (300,000) مقرر کی گئی ہے۔ٹریکٹرز کی بیلٹنگ کا انعقاد سندھ بینک کے آئی ٹی (IT) ڈپارٹمینٹ کر رہا ہے اور اٴْسی وقت سندھ بینک کی ویب سائٹ اور سندھ ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر کامیاب کاشتکاروں کے نام کی لسٹ لگائی جائے گی لیکن کامیاب کاشتکاروں کو تاکید کی جا رہی ہے کہ اپنے کاغذات کی محکمے سے تصدیق کروائیں اور اگر کسی وجہ سے ان میں سے کسی کے بھی کاغذات غلط پائے گئے تو بصورت دیگر ان کا نام خارج کردیا جائے گا۔

کامیاب کاشتکاروں کو ٹریکٹرز ڈسٹریبیوشن ڈسٹرکٹ وائز کوٹے کے مطابق کی جائے گی اس ٹریکٹر اسکیم اور بیلٹنگ کے ذریعے ہر سال کاشتکاروں کو سبسڈی پہ ٹریکٹرز دیئے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں سندھ کے کاشتکار مشینی کاشتکاری پر گامزن ہو رہے ہیں جس سے صوبے اور ملک کی معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :