بجٹ نہ پیش کرنا چوائس نہیں تھی، 4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتی،

اپوزیشن کا احتجاج اور ہلڑ بازی منفی تھی، حکومت نے متوازن اور اقتصادی گروتھ کے رجحان کو بڑھانے والا بجٹ پیش کیا وزیر داخلہ، ترقی و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا بیان

جمعہ اپریل 23:47

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) وزیر داخلہ، و ترقی و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بجٹ نہ پیش کرنا چوائس نہیں تھی، 4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتی، اپوزیشن کا احتجاج اور ہلڑ بازی منفی تھی، حکومت نے متوازن اور اقتصادی گروتھ کے رجحان کو بڑھانے والا بجٹ پیش کیا۔ جمعہ کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ترقی کی 13 سالوں کی بلند ترین 5.8 فیصد شرح حاصل ہوئی ہے، آئندہ حکومت کی ترجیحات کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کار پورے سال کے تخمینوں پر منصوبہ بندی کرتے ہیں، سی پیک کے منصوبوں کیلئے پورا بجٹ مختص کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے منصوبوں کیلئے خصوصی فنڈز مختص کئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ترقیاتی بجٹ کیلئے ریکارڈ 47 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے 23 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج اور ہلڑ بازی منفی تھی -انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل چاہئے، عوام ترقی کے سفر کو جاری دیکھنا چاہتے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی حکومت انشاء الله انتخابات جیت کر اہداف پورے کرے گی۔