پنجاب فوڈ اتھارٹی کا انرجی ڈرنکس کمپنیز کیلئے تفصیلی ہدایت نامہ جاری، لفظ انرجی کا استعمال ممنوع قرار

نام نہاد انرجی ڈرنکس پر لفظ انرجی کا استعمال سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر مغالطہ آمیز اور گمراہ کن ہے : ترجمان صحت پر مضر اثرات کم کرنے کے لیے کیفین کی بالائی حد مقرر،فارماسویئٹکل اجزاء شامل کرنے پر مکمل پابندی عائد پی ایف اے ایکٹ 2011 کے تحت جاری ہدایات پر عمل کے لیے آٹھ ماہ کا بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹا ئم دیا گیا ہے : پنجاب فوڈ اتھارٹی

منگل مئی 20:34

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے انرجی ڈرنکس کمپنیز کو اپنی پراڈکٹس پر لفظ انرجی کے استعمال کو ممنوع قرار د یتے ہوئے واضح ہدایات جاری ہیں کہ آئندہ کوئی بھی انرجی ڈرنک کمپنی اپنی پراڈکٹ پر لفظ انرجی استعمال نہیں کرے گا۔لفظ انرجی سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر مغالطہ آمیز اور گمراہ کن ہے جس کی وجہ سے صارفین اس کے نقصانات جانے بغیر فوری انرجی کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ ا تھارٹی نے صوبہ بھرمیں تیار اور فروخت ہونے والے انر جی ڈرنکس کے کیلئے تفصیلی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔جاری کردہ ہدایات کے مطابق کیفینیٹڈ ڈرنک پر لکھے جانے والا لفظ انرجی سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر مغالطہ آمیز اور گمراہ کن قرار دے کر اس کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب فوڈ اتھارٹی سائنٹیفک پینل کی ریسرچ کے مطابق ان ڈرنکس میں کیفین کی بھاری مقدار استعمال کی جاتی ہے جو کہ 12 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کیلئے انتہائی مضر ہے۔

تمام کمپنیز لیبل پرپنجاب فوڈ اتھارٹی کی وضع کردہ ہدایات اردو انگریزی میں تحریر کرنے کی پابند ہونگی۔ لیبل پر واضح طور پر'' ہائیلی کیفینیٹڈ ڈرنک'' اور ''یہ مشروب 12 سال سے کم عمر بچوں ، حاملہ خواتین کیلئے نہیں'' لاز می تحریر کیا جائے گا ۔ نام نہاد انرجی ڈرنکس کے لیبل پر لفظ حلال لکھنے کے ساتھ ساتھ''کیفین سے الرجی کی بیماری والے افراد اس مشروب کو استعمال نہ کریں'' بھی لکھا جائے ۔

مشروب کی تیاری میں ادویاتی (فاماسیئوٹیکل) اجزاء شامل نہ کیئے جائیںاور کیفین کی مقدار 200ppm یا mg/l 200 سے زیادہ شامل نہ ہو۔تمام کمپنیوں کو اپنیپراڈکٹس کا حلال سرٹیفائیڈ کرواناا ضروری قرار دے دیا گیا۔ ہدایات اور دیے گئے معیار پر عمل درآمد کیلئے تمام کمپنیز کو 8 ماہ کا بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹائم دیا گیا ہے۔بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹائم کے بعد ہدایات پر عمل نہ کرنے والی پراڈکٹس موقع پر ضائع کر دی جائینگی اور کمپنی کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے تمام ہدایات پی ایف اے ایکٹ 11 کے تحت جاری کی ہیں۔

متعلقہ عنوان :