چین،بھارت فوجی حکام ہاٹ لائن قائم کرنے پر رضامند

فیصلہ چینی صدر شی اور بھارتی وزیراعظم مودی کے درمیان غیر رسمی ملاقات میں کیاگیا اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی اتفاق ، فوجی حکام کو ہدایات جاری کردی گئیں، گلوبل ٹائمز

بدھ مئی 21:53

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) چین اور بھار ت کے فوجی حکام دونوں ممالک کے فوجی ہیڈکوارٹرز کے درمیان ہاٹ لائن قائم کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں، اس کا فیصلہ حال ہی میں چین کے صدر شی جن پھنگ اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ووہان میں غیر رسمی ملاقات کے دوران کیا گیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنمائونے چین بھارت تعلقات پر بات چیت کی جس کے نتیجے میں وہ فوجی ہیڈکوارٹر ز کے درمیاں ہاٹ لائن کے قیام پر رضامند ہوئے۔

چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز نے چینی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام کو اس سلسلے میں اہم گائیڈ لائن دے دی گئی ہے تاکہ رابطے مضبوط بنائے جاسکیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اعتماد ، مفاہمت اور سرحدی امور کی منیجمنٹ کو موثر بنایا جاسکے۔

(جاری ہے)

دونوں رہنمائو نے اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی اتفاق کیا۔ اور ان کے بارے میں اپنے اپنے فوجی حکام کو ہدایات جاری کردی گئیں۔

ان اقدامات میں کہا گیا ہے کہ ایسا مکنیزم تشکیل دیا جائے گا کہ سرحدوں پر کوئی ناخوشگوار پیدا نہ ہو۔ وزارت خارجہ کے مطابق ہاٹ لائن کا قیام اعتماد سازی کے سلسلے میں ایک بڑا اقدام ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کنٹرول لائن 3,488 کلومیٹر طویل ہے۔ اس سرحد پر گزشتہ سال ڈوکلام کے مقام پر دونوں ممالک کے فوجی دستوں میں تصادم ہوچکا ہے۔ دریں اثناء گزشتہ روزچین اوربھارت کے فوجی حکام نے چوسل (لداخ) کے مقام پر ایک اجلاس منعقد کیا جس میں لائن آف کنٹرول پر امن برقرار رکھنے کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس چینی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد ہوا۔