بلو چستان میں بیٹھے ہوئے تکفری جو دراصل ارض پاکستان کے دشمن

ہیں،رہنماپاکستان امن کونسل

بدھ مئی 22:14

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پاکستان امن کونسل کے مرکزی صدر مدثر عباس کاظمی، سیکرٹری جنرل شیخ مظہر علی نے چیف آف آرمی سٹاف اورچیف جسٹس آف پاکستانکی جانب سے بلو چستان میںہزارہ برادری کے قتل ہونے والے افراد کے واقع پر سو موٹو ایکشن لینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلو چستان میں بیٹھے ہوئے تکفری جو دراصل ارض پاکستان کے دشمن ہیں ان کی سرکوبی ہو ساکنان پاکستان کو تحفظ میسر آئے اس موقع پر سیکرٹری جنرل شیخ مظہر علی نے اجلاس میں امن قرارداد پیش کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک عزیر میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان محافظین کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے تکفیری عناصر کی سرکوبی ہو۔

دفاع وطن کے ہر دو محاذ اندرونی اور بیرونی پر کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ارض پاکستان میں مسلکی امن پیدا ہو عقائد اور نظریات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اللہ تعالی نے عدم تفرقہ کا حکم قرآن پاک میں دیا ہے کوئی کلمہ گو جو توحید و رسالت ؐکا قائل ہے وہ کافر نہیں ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ امن کے لیے ضروری ہے کہ شیعہ نسل کشی جو پاکستان کے مختلف خطوں میں جاری ہے دراصل تعلیمات رسول خدا ؐ کے خلاف ہے اور اس سے ملک میں جاری فوج کی امن کے قیام کی کوششوں کو دھچکا پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

اجلاس میں اور اسی طرح یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ چیف آف آرمی سٹاف اندرونی خلفشار کی سرکوبی کے لیے بلوچستان میں چوکوں ،چوراہوں پہ کفر اور قتل کے فتوے لگانے والے امن دشمنوں اور پاکستان کے آئین کے غداروں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنیں تاکہ ان کا قلع قمع ہو سکے اور ارض پاکستان امن کا گہوارہ بن سکے۔