جماعت اسلامی کاخیبرپختونخوا حکومت سے الگ ہونے کا اعلان

تینوں وزراء اور دونوں پارلیمانی سیکرٹریوں نے اپنے استعفے وزیراعلیٰ کے پاس جمع کرادیئے موجودہ حکومت کو اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے تک بجٹ سمیت ہر مرحلے پر سپورٹ کرنے کی یقین دہانی

جمعرات مئی 23:16

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) جماعت اسلامی نے خیبرپختونخوا حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کردیاہے جس کے تحت جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے تینوں وزراء اور دونوں پارلیمانی سیکرٹریوں نے اپنے استعفے وزیراعلیٰ کے پاس جمع کرادیئے تاہم جماعت اسلامی نے موجودہ حکومت کو اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے تک بجٹ سمیت ہر مرحلے پر سپورٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ،اس بات کا اعلان جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینئر وزیر برائے بلدیات عنایت اللہ خان نے اپنے دیگر دونوں وزراء اوراراکین اسمبلی کے ہمراہ وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر کیا جس میں سپیکر صوبائی اسمبلی اسدقیصر اور دیگر بھی موجود تھے ۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے کہا کہ تحریک انصاف ارو جماعت اسلامی نے پانچ سال مل کر صوبے میں حکومت کی ہے تاہم اب آخری مہینے میں جماعت اسلامی حکومت سے الگ ہورہی ہے کیونکہ جماعت اسلامی ایم ایم اے کا حصہ بن گئی ہے تاہم ہم بخوشی الگ ہورہے ہیں ،ہم نے اچھا وقت گزارا ہے اور مستقبل میں بھی ہم اکٹھے ہوسکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لوگ صاف ستھرے ہیں اور انہوں نے ہمارے ساتھ مکمل طور پر تعاون کیاہے جس پر ہم انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کیونکہ ہم کسی لڑائی ،جھگڑے اور اختلاف کے بغیر الگ ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی حکومت میں بجلی کے خالص منافع کی رقم کو نیپر امیں کیس ڈالتے ہوئی6ارب سے بڑھاکر20ارب کرایا جو 1992ء سے منجمد تھا تاہم اب بجلی کے نرخوں کوبڑھاکر6روپے کیاجارہاہے جس پر صوبے متفق ہیں جس سے خیبرپختونخو اکے لیے یہ منافع بڑھ کر سالانہ100ارب تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب تک گورنر نے مجھے نہ تو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہاہے او رنہ ہی کوئی رابطہ کیاہے جب گورنر ایسا کرنے کیلیے کہیں گے تو دیکھاجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ کہیں کہ میرے پاس اکثریت نہیں رہی اور میں کچھ نہیں کرسکتا،میں چاہوں تو سب کچھ کرسکتاہوں اور میں اسی لیے حکومت کررہاہوں کہ مجھے دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ مجھے سپورٹ کریں گی جو بجٹ کے لیے بھی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ نگران وزیراعلیٰ کے حوالے سے دو ملاقاتیں ہوچکی ہیںجبکہ دیگر پارلیمانی لیڈروں کے ساتھ بھی رابطے ہوئے ہیں اور جلد ہی ہم نگران وزیراعلیٰ کے لیے کسی ایک نام پر متفق ہوجائین گے ۔

انہوں نے کہا کہ 3مئی کو بلایاگیا اسمبلی اجلاس اس لیے ملتوی کیاگیاہے کہ ہم مشاورت میں مصروف ہیں تاکہ بجٹ کے حوالے سے صورت حال واضح ہوسکے ۔سابق سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے پانچ سال ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے ساتھ حکومت میں گزارے ہیں اورہمارا یہ معاہدہ11نکاتی تھا،ہم نے الزامات عائد کرنے کی بجائے ایک نئی مثال قائم کی اورہنسی خوشی حکومت سے الگ ہورہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے نصاب میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس کرنے کے لیے کہا ،قران پاک کا ناظرہ اور ترجمہ شامل کرنے کی بات کی ،ملاکنڈڈویژن میں تعلیمی اداروں کے قیام کا مطالبہ کیا ،،بلدیاتی انتخابات کی بات کی اور یہ تمام مطالبات ہمارے پورے ہوئے جبکہ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم شفافیت کی نئی مثال قائم کی اور میرٹ پر عمل کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاست میں نئی مثال قائم کی کہ اگر دیانتدار سے کام کیاجئے تو سب کچھ ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پارٹی کے فیصلے کے مطابق حکومت سے الگ ہوگئے ہیں تاہم جہاں تک جے یوآئی کا تعلق ہے تو مرکز میں حکومت سے الگ ہونے کا فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے ۔