سپریم کورٹ میں نجی میڈیکل کالجوں کی جانب سے طلباء وطالبات سے اضافی فیس کی وصولی کے حوالے سے کیس کی سماعت‘ اضافی فیسوں کی انکوائری کیلئے ڈائریکٹرایف آئی اے لاہور کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا حکم

جمعرات مئی 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالجوں کی جانب سے طلباء وطالبات سے اضافی فیس کی وصولی کے حوالے سے کیس میں اضافی فیسوں کی انکوائری کیلئے ڈائریکٹرایف آئی اے لاہور ڈاکٹرعثمان کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا حکم جار ی کردیا ہے اور واضح کیا کہ کمیشن ایک ماہ میں انکوائری مکمل کرکے عدالت کورپورٹ پیش کرے گا جس کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائی جائے گی ، کالجوں کی فیسیں پی ایم ڈی سی مقرر کرے گا جبکہ عدالتی حکم کے باوجود وصول کردہ زائد فیسیں واپس نہ کرنے والے کالج مالکان کوعدالت طلب کیا جائے گا۔

پیرکو چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پرچیف جسٹس نے استفسارکیا کہ عدالت نے نجی میڈیکل کالجوں کیلئے زیادہ سے زیادہ آٹھ لاکھ روپے فیس مقررکی ہے بتایا جائے کیا اس پرعمل کیاجارہا ہے ، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے پیش ہوکر عدالت کوبتایا کہ یہاں ایسے بھی میڈیکل کالجز ہیں جنھوں نے 8 لاکھ روپے سے کم فیس لی ہے چیف جسٹس نے کہاکہ نجی میڈیکل کالجوں کی فیسیں پی ایم ڈی سی مقررکرے گا اورپی ایم ڈی سی جو بھی فیس مقرر کرے گا وہ ادا کرنا ہوگی، عدالت کے استفسار پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان میں کوئی نجی میڈیکل کالج نہیں ہے وہاں صرف سرکاری میڈیکل کالج ہیں، چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ عدالت نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے سٹوڈنٹس سے لی گئی اضافی فیس واپس کرنے کا حکم دیا تھا اس کاکیا بنا اگر نجی میڈیکل کالجز اضافی فیس واپس نہیں کرتے تو ہم مالکان کو بلا لیں گے ، سماعت کے دورا ن فاطمہ میڈیکل کالج کے وکیل سید علی ظفر نے پیش ہوکرعدالت کوبتایا کہ ان کے موکل ادارے فاطمہ میڈیکل کالج نے سٹوڈنٹس کو اضافی فیس واپس کر دی ہے تاہم میری استدعا ہے کہ نجی میڈیکل کالجز کے حوالے سے سخت احکامات پاس نہ کئے جائیں ، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ پھروہ عدالت کوبتادیں کہ کس طرح کاحکم جاری کیا جائے ، آپ جان لیں کہ ایک نجی میڈیکل کالج نے اضافی لی گئی 25 کروڑ روپے فیس واپس کی ہے ،،عدالت اس معاملے پرایف آئی اے کے ڈائریکٹر عثمان کی سربراہی میں کمیشن مقرر کر رہی ہے ، جو انکوائری کرکے اضافی فیس وصولی کے بارے میں عدالت کو رپورٹ دے گا کمیشن سے کہا جائے گا کہ اضافی فیس سے متعلق ایک ماہ میں انکوائری کرکے رپورٹ دی جائے ، سماعت کے دوران جسٹس عمرعطابندیا ل نے استفسارکیا کہ کیا کمیشن مقرر کرنے کے بعد آغاخان یونیورسٹی کے میڈیکل کالج کا بھی جائزہ لیا جائے گا ، جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ عدالت آغا خان ہسپتال کو استثنیٰ دے چکی ہے، جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ کیاایسے میڈیکل کالجز ہوں گے جن کا معیار آغا خان میڈیکل کالج کے برابر ہوگا ، کمیشن کی جانب سے معائنہ یا انکوائری اس انداز سے ہو کہ کسی کو ہراساں کرنے کا تاثر پیدا نہ ہو، جس پرڈائریکٹر نے عدالت کویقین دلایا کہ کمیشن کی جانب سے کسی نجی میڈیکل کالج کو ہراساں نہیں کیا جائیگا، کوئی اپنی حدود سے تجاوز نہیں کر ے گا ، چیف جسٹس کاکہناتھاکہ نجی میڈیکل کالجز سٹوڈنٹس سے اضافی فیس لیکر رسید بھی نہیں دیتے، بلکہ اضافی فیس کیلئے الگ رجسٹر بنائے جاتے ہیں، کمیشن بلا امتیاز نجی میڈیکل کالجوں کے بارے میں انکوائری کرے اورمعائنہ کے دوران کسی کوہراسا ں نہ کیاجائے، عدالت کے نوٹس لینے پرفیصل آباد کے ایک میڈیکل کالج سے 32 لاکھ روپے واپس کروائے گئے ہیں، بعد ازاں عدالت نے انکوائری کمیشن بنانے کاحکم جاری کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی ۔