بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے،قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی،ریاست چلانا عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہے،

عدلیہ نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے،ججز کسی صورت اپنے حلف سے روگردانی نہیں کریں گے،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا جوڈیشل کانفرنس سے خطاب

ہفتہ مئی 22:51

بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے،قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ایکشن لینا عدلیہ کا فرض ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی حاصل نہیں جا سکتی،ریاست چلانا عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہے،آئین کے ان احکامات کی پابندی کرنا سب پر لازم ہے،شہریوں کے بنیادی حقوق کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے، عدلیہ نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے،ججز کسی صورت اپنے حلف سے روگردانی نہیں کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاںآٹھویں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ پاکستان میں عملدرآمد نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے،آج تک ہونے والی جوڈیشل کانفرنسز کی سفارشات پر عمل نہیں ہوا،کئی گھنٹوں کی محنت سے آج بھی سفارشات تیار کی گئی ہیں،جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں ججز پر مشتمل کمیٹی عملدرآمد یقینی بنائے،چار ماہ میں کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،کمیٹی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید ، جسٹس فائز عیسیٰ، جسٹس عمر عطاء،جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر کمیٹی میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے،عدلیہ کے ہوتے ہوئی کوئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ایکشن لینا عدلیہ کا فرض ہے،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر سوموٹو یا پٹیشن پر کاروائی کی جاتی ہے،آئین کی خلاف ورزی پر عدالت کو جائزہ لینے کا اختیار ہے،عدلیہ پر پہلے ہی بہت بوجھ ہے،ججز کی تعداد بڑھانے سے بھی مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا، تنازعات کے حل کے متبادل نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے،متبادل نظام ملکی زمینی حالات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جا سکتا ہے،ہمارے معاشرے میں بابا رحمتے لوگوں کے تنازعات حل کرتا ہے،بابا رحمتے کو فیصلے پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا،اے ڈی آر سسٹم میں عدالت پر بوجھ نہیں پڑے گا،پاکستان میں عملدرآمد نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے،کہا جاتا ہے عدالت کے کئی فیصلے آپس میں متضاد ہیں،متضاد فیصلوں سے ماتحت عدلیہ کو مشکلات ہیش آتی ہیںوکلاء ایسے فیصلوں کی نشاندہی کریں تاکہ مسئلے کا حل ہو سکے،آئندہ ہفتے سات رکنی لارجر بنچ فوجداری قانون سے متعلق سماعت کرے گا۔

لاء اینڈ جسٹس کمیشن نظام انصاف میں اصلاحات کی کئی سفارشات کر چکا ہے،سفارشات تاحال ایگزیکٹو فورم پر زیر التواء ہیںاٹارنی جنرل معاملے کا جائزہ لیکر سفارشات پارلیمنٹ کو بھجوائیں،چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد میں تعاون پر تمام ساتھی ججز کا مشکور ہوں،انہوں نے کہاکہ ہم خوش قسمت ہیں کہ پاکستان کا آئین تحریری صورت میں ہے آئین قانون کی حکمرانی کے اصول وضع کرتا ہے،قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی،ریاست چلانا عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہے،آئین کے ان احکامات کی پابندی کرنا سب پر لازم ہے،شہریوں کے بنیادی حقوق کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے عدلیہ نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے قرآن پاک اور الہامی کتابوں کے بعد آئین سب سے مقدس کتاب ہے، ججز نے آئین پر روح کے مطابق عمل کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے ججز کسی صورت اپنے حلف سے روگردانی نہیں کریں گے۔

۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آٹھویں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک میں عدلیہ غلط فیصلہ بھی کرے تو پورا ملک تسلیم کرتا ہے،ملک میں متوازی عدالتی نظام نہیں ہو سکتا،عدالتی دائرہ اختیار کا فیصلہ بالآخر سپریم کورٹ کو کرنا پڑتا ہے، جسٹس گلزار احمد نے سفارشات پڑھ کر سنائیں ،انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں ٹرانزٹ اور سمندری مال برداری قوانین متعارف کرائے جائیں۔

سی پیک کو دیکھتے ہوئے علاقائی سطح پر کثیر الملکی سرمایہ گارنٹی ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائے۔سی پیک کے دوران اٹھنے والے تنازعات کے حل کے لیے علاقائی ثالثی مرکز قائم کیا جائے۔پاکستان اور چین کے درمیان دوہرے ٹیکس سے بچنے کیلئے آرٹیکل آٹھ میں ترمیم کی جائے۔سی پیک منصوبوں کے دوران ماحولیات کا اعلٰی معیار برقرار رکھا جائے۔وزارت منصوبہ بندی سی پیک کے معاہدوں اور دستاویزات کو عام لوگوں کی دسترس میں لائے۔

سفارشات پڑھتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں ٹرانزٹ اور سمندری مال برداری قوانین متعارف کرائے جائیں، سی پیک کو دیکھتے ہوئے علاقائی سطح پر کثیر الملکی سرمایہ گارنٹی ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائے، سی پیک کے دوران اٹھنے والے تنازعات کے حل کے لیے علاقائی ثالثی مرکز قائم کیا جائے، پاکستان اور چین کے درمیان دوہرے ٹیکس سے بچنے کیلئے آرٹیکل آٹھ میں ترمیم کی جائے، سی پیک منصوبوں کے دوران ماحولیات کا اعلٰی معیار برقرار رکھا جائے، وزارت منصوبہ بندی سی پیک کے معاہدوں اور دستاویزات کو عام لوگوں کی دسترس میں لائے۔

آٹھویں جوڈیشل کانفرنس میں تنازعات کے متبادل حل کی سفارشات جسٹس عظمت سعید نے پیش کیں،تنازعات کے حل کا متبادل نظام جلد انصاف کیلئے اہم ہے،کمرشل تنازعات کے حل کیلئے دنیا میں کئی ماڈلز موجود ہیں،دنیا میں رائج اس نظام کو نافذ کرکے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے،عدلیہ کی نگرانی میں ہونے والی ثالثی زیادہ مفید ہے،نئے نظام کیلئے ججز کی ٹریننگ بھی لازمی ہوگی،عوام کی اکثریت کی عدالت تک رسائی ہی ممکن نہیں،عوام کی عدالتوں تک رسائی نہ ہونے کی کئی معاشرتی وجوہات ہیں،ہم ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ان مسائل پر بات کرتے ہیں،گراس روٹ سطح پر انصاف کیلئے تنازعات کے حل کے متبادل نظام کی ضرورت ہے،انصاف تک رسائی بنیادی آئینی حق ہے،ملک کے چالیس فیصد عوام انصاف کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

نظام انصاف کے تناظر میں سیاسی و معاشی استحکام کی سفارشات جسٹس قاضی فائز عیسی نے پڑھ کر سنائیںسیاسی عدم استحکام معیشت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے ،سیاسی عدم استحکام سے ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچتا ہے،ملزمان کا بائیومیٹرک اور تصویری ریکارڈ ہونا لازمی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شواہد اکٹھے کرنے کی تربیت ضروری ہے،جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث افراد کیخلاف فوجداری کارروائی ہونی چاہیے،جائے وقوعہ سے شواہد ضائع ہونے سے بچائے جانے چاہیے،فوجداری مقدمات کو التواء کے بغیر نمٹانے کی ضرورت ہے،گواہان کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر بیان جلد ریکارڈ کیے جائیں،میمو کمیشن میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا گیا،ویڈیو لنک سے بیان لینا بظاہر مشکل تھا لیکن ریکارڈ باآسانی ہوا،دہشتگردی تنظیموں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،کالعدم تنظیموں کے پراپیگنڈا پر بھی پابندی عائد ہونی چاہیے،انسداد دہشتگردی کے قوانین پر مکمل عملدرآمدٴْہونا چاہیے،دہشتگردی کے واقعہ کے بعد سکیورٹی اداروں کے ردعمل کا طریقہ کار وضع ہونا چاہیے۔

قانون کی تعلیم سے متعلق سفارشات جسٹس مقبول باقر نے پڑھ کر سنائیں ان کا کہنا تھا کہ لاء کالج میں اساتذہ کی تعیناتی اور داخلے میرٹ پر ہونے چاہیں،قانون کی تعلیم میں فرضی ٹرائل بھی ہونے چاہیں تاکہ طلبہ عدالتی کارروائی سمجھ سکیں،طلبہ کو تنازعات کے حل کے متبادل نظام کی تعلیم بھی دی جائے،قانون کے نصاب تعلیم کو وقت کیساتھ جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنا چاہیے،قانون کی تعلیم کا معیار ملک بھر میں یکساں ہونا چاہیے،قانون تعلیم کے امتحانات کیلئے سنٹرل امتحانی نظام ہونا چاہیے ۔