مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجیوں نے شوپیاں میںمزید 10نوجوان شہید کر دئیے ،ْشہداء کی تعداد چودہ ہوگئی

کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے سخت پابندیاں نافذ کر دیں ،ْ موبائل فون اور انٹر نیٹ سروس بھی معطل بھارتی فورسز کی جارحیت کے خلاف اور نوجوانوں کی شہادت پر علاقے میں زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے ،ْبھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں چلائیں، پیلٹ برسائے ،ْ آنسو گیس کی شدید شیلنگ ،ْ متعدد افراد زخمی قابض فوجیوں نے علاقے میں ایک رہائشی مکان کو بھی بارودی مواد سے اڑا دیا

اتوار مئی 17:50

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران اتوار کو ضلع شوپیاں میں مزید 10 کشمیری نوجوان شہید کر دئیے جس سے ہفتے کے روز سے مقبوضہ وادی میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 14ہو گئی ،ْبھارتی فورسز کی جارحیت کے خلاف اور نوجوانوں کی شہادت پر علاقے میں زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے ،ْبھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں چلائیں، پیلٹ برسائے اور آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ،ْ قابض فوجیوں نے علاقے میں ایک رہائشی مکان کو بھی بارودی مواد سے اڑا دیا۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے ضلع شوپیاں کے علاقے بادی گام میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران پانچ نوجوانوں کو شہید کیا۔

(جاری ہے)

شہید ہونے والوں کے نام پروفیسر محمد رفیع بٹ ، صدام احمد پڈر ، بلال احمد مہند،عادل ملک اور توصیف احمد شیخ بتائے جا رہے ہیں ۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ شہید ہونے والے یہ نوجوان عسکریت پسند تھے۔نوجوانوں کی شہادت پر علاقے میں زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے ۔

بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں چلائیں، پیلٹ برسائے اور آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 17سالہ آصف احمد میر ، سجاد احمد راتھر عادل احمد شیخ ، ناصر احمد کمہار اور زبیر احمد ناگرو شدید زخمی ہو گئے جو بعد ازاں ہسپتالوں میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ قابض فوجیوں نے علاقے میں ایک رہائشی مکان کو بھی بارودی مواد سے اڑا دیا۔

قبل ازیں اسی علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران ایک بھارتی فوجی افسر اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ ان 10 نوجوانوں کی شہادت سے ہفتے کے روز سے مقبوضہ وادی میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر14ہو گئی۔ بھارتی فوجیوں نے 3 نوجوانوں کو ہفتے کے روز سرینگر کے علاقے چھتہ بل میں محاصرے اور تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران شہید کیاتھاجبکہ ایک اور نوجوان کو بھارتی فوج کی ایک گاڑی نے صفا کدل سرینگر میں کچل کر شہید کردیاتھا۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں سرینگر میں بے گناہ نوجوانوں کے شہادت پر پورے مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے ،ْسرینگر اور دیگر تمام چھوٹے بڑے قصبوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے نوجوانوں کی شہادت پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے سرینگر میں سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں ۔ انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں موبائل فون انٹرنیٹ اور ریل سروسز بھی معطل کر دی ہیں۔