قومی اسمبلی نے تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کا بل 2017ء اتفاق رائے سے منظور کرلیا

بل کے قانون بننے سے تیزاب پھینکے اور جلائے جانے کے واقعات میں کمی ہوگی ،ْماروی میمن قومی اسمبلی نے پاکستان بیت المال (ترمیمی) بل 2017ء کی منظوری دے دی فوجداری قانون (ترمیمی)بل 2017ء دفعہ 173 میں ترمیم کا بل بھی منظور انسٹی ٹیوٹ آف سائنس و ٹیکنالوجی بل 2018ء سمیت تین بلوں کی منظوری دے دی گئی

منگل مئی 15:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کا بل 2017ء اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ کی ماروی میمن نے تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کا بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے مختلف ترامیم پیش کیں جن کی مخالفت نہیں کی گئی‘ ان کو منظور کرلیا گیا۔

اس کے بعد شق وار بل کی منظوری لی گئی۔ ماروی میمن نے بل ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔ ماروی میمن نے بل کی منظوری پر پارلیمنٹ اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اس بل کی سینٹ سے بھی متفقہ منظوری ہوگی۔ اس بل کے قانون بننے سے تیزاب پھینکے اور جلائے جانے کے واقعات میں کمی ہوگی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ یہ اہم بل ہے تاہم آج کی ترامیم نے ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو سزا دینے میں تاخیر ہوگی۔

توقع ہے کہ سینٹ اس کو بحال کردے گا۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے پاکستان بیت المال (ترمیمی) بل 2017ء کی منظوری دے دی۔ یہ بل سینٹ سے منظور ہو کے قومی اسمبلی میں لایا گیا تھا۔ قومی اسمبلی میں سید نوید قمر نے پاکستان بیت المال (ترمیمی) بل 2017ء سینٹ سے منظور کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے ایوان سے شق وار منظوری لی۔

نوید قمر نے بل منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔اجلاس کے دور ان فوجداری قانون (ترمیمی)بل 2017ء دفعہ 173 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی نے منظور کرلیا۔ قومی اسمبلی میں ایس اے اقبال قادری نے فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2017ء دفعہ 173 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد اس بل کی شق وار منظوری لی گئی جس کے بعد ایس اے اقبال قادری نے بل ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔

اجلاس کے دور ان ایم کیو ایم کی رکن سمن سلطانہ جعفری نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے قرارداد کے ضمن میں ایوان میں غلط بیانی کی گئی اس پر تحریک استحقاق لائی جائے گی۔ نکتہ اعتراض پر سمن سلطانہ جعفری نے کہا کہ جمعہ کو ایوان میں کیپٹن (ر) صفدر نے ایک قرارداد لائی جس پر اراکین کو اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کیا گیا اور ان کے ساتھ غلط بیانی کی گئی۔

اس پر وہ تحریک استحقاق بھی لائیں گی۔ ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس کے شعبہ کا نام خوارزمی کے نام پر رکھنا چاہ رہے ہیں جبکہ اس ڈیپارٹمنٹ کا نام کسی کے ساتھ منسوب نہیں تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ قرارداد کچھ اور تھی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے علاقہ دارالحکومت اسلام آباد امتناع ملازمت بچگان بل 2017ء کی منظوری دے دی پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے تحریک پیش کی کہ علاقہ دارالحکومت اسلام آباد امتناع ملازمت بچگان بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔

تحریک کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔ شازیہ مری نے تحریک پیش کی کہ دارالحکومت اسلام آباد امتناع ملازمت بچگان بل 2017ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے بل کی منظوری دے دی۔ شازیہ مری نے بل کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قومی اسمبلی نے اہم قانون سازی کی ہے۔

اس کے لئے کمیٹی اور پورے ایوان کی شکرگزار ہوں۔ اجلاس کے دور ان ایوان نے انسٹی ٹیوٹ آف سائنس و ٹیکنالوجی بل 2018ء سمیت تین بلوں کی منظوری دے دی۔وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن نے تحریک پیش کی کہ حکومتی ایجنڈا زیر غور لانے کے لئے نجی کارروائی کا ایجنڈا معطل کیا جائے۔ تحریک کی منظوری کے بعد وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بہاولپور کو ڈگری جاری کرنے کا اختیار دینے کا بل 2018ء زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔

تحریک کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بل کی تمام شقوں کو یکجا کرکے منظوری حاصل کی۔ وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن نے تحریک پیش کی کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بہاولپور بل 2018ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔ وزیر مملکت بلیغ الرحمان نے تحریک پیش کی کہ سرسید انسٹی ٹیوٹ برائے ایڈوانس سٹڈیز انجینئر اینڈ ٹیکنالوجی بل 2018ء زیر غور لایا جائے۔

تحریک کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔ وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمان نے تحریک پیش کی کہ سرسید انسٹی ٹیوٹ برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل 2018ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی۔ انجینئر بلیغ الرحمن نے بل کی منظوری پر پورے ایوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تعلیم کے حوالے سے بل کی منظوری ایک اہم سنگ میل ہے۔

ایوان اور کمیٹی کے ہر رکن نے بلوں کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور اسلام آبادمیں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کا قیام خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں بنانے کے ساتھ ساتھ فیکلٹی کے معیار کا بھی خصوصی خیال رکھا جائے۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2017ء کی منظوری دے دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے تحریک پیش کی کہ فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2017ء زیر غور لایا جائے۔ تحریک کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بل کی شق وار منظوری حاصل کی۔ سید نوید قمر نے تحریک پیش کی کہ فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2017ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی۔