امریکہ نے ایران جوہری معاہدہ سے الگ ہونے کا اعلان کردیا،ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی،ڈونلڈ ٹرمپ

ْ

بدھ مئی 00:50

واشنگٹن ۔ 8 مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ 2015 میں ہونے والے ایران جوہری معاہدے سے نکل رہا ہے اور ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی اور امریکہ کے اتحادیوں کو محفوظ کرنا تھا لیکن اس معاہدے نے ایران کو یورینئیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

امریکی صدر نے کہا کہ 'تباہ کن' ایران جوہری معاہدہ امریکہ کے لیے باعث ’شرمندگی‘ ہے۔منگل کو اعلان کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ معاہدہ ایران کو عدم استحکام پھیلانے، بشمول دہشت گردی کی معاونت جیسی کارروائیوں سے نہیں روکتا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران پر سے اٹھائی جانے والی معاشی پابندیاں دوبارہ سے عائد کریں گے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ یورپی ممالک کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدہ بہترین طریقہ ہے جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔اس سے قبل برطانوی سیکریٹری خارجہ بورس جانسن نے صدر ٹرمپ سے استدعا کی تھی کہ جوہری معاہدے کو ختم نہ کریں۔ دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ فرانس،، برطانیہ اور جرمنی معاہدے کی پاسداری جاری رکھیں گے۔

یہ جوہری معاہدہ ایران اور سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔جس میں طے ہوا تھا کہ ایران یورینیم کی پانچ فیصد سے زائد افزودگی روک دے گا اور درمیانے درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ناکارہ بنائے گا اورآراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کیا جائے گا۔جوہری ہتھیاروں کے عالمی ادارے کو نتنانز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائیگی۔

ان اقدامات کے بدلے میں چھ ماہ تک جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں پہلے سے عائد کچھ پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔۔ایران کو تیل کی فروخت کی موجودہ حد برقرار رہے گی جس کی بدولت ایران کو چار ارب بیس کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔