سعودی عرب کا ایران کی خطے میں مداخلت کے خلاف مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور

وزیر داخلہ احسن اقبال پر مسلح حملے کی مذمت،ملک کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے حمایت کا ا عادہ

بدھ مئی 12:32

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سعودی عرب نے عرب ممالک کے امور میں ایرانی رجیم اور اس کے ایجنٹوں کی مداخلت کو روکنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک متحدہ مؤقف اپنانے اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی کابینہ نے جدہ میں اپنے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں ایران کی مراکش کے امور میں حزب اللہ کے ذریعے مداخلت اور پولیساریو گروپ کو تربیت دینے پر مذمت کی ہے اور مراکش کو ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے اور اس کی سلامتی اور استحکام کے لیے اقدامات پر حمایت کا یقین دلایا ہے۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مراکش کے شاہ محمد ششم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ سعودی حکومت اور عوام مراکش کی سلامتی ، استحکام اور علاقائی خود مختاری کو درپیش خطرات کے مقابلے کے لیے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

(جاری ہے)

سعودی فرما ں روا نے وزارتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی اور اس کو مراکش کے شاہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

وزیر مملکت اور قائم مقام وزیر ثقافت اور اطلاعات ڈاکٹر عصام سعید نے ایک بیان میں بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں بعض مقامی امور کے بارے میں رپورٹس کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں الحرمین الشریفین میں رمضان المبارک کے دوران میں عازمین عمرہ اور زائرین کو مہیا کی جانے والی سہولتوں اور خدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزارتی کونسل نے حال ہی میں شروع کیے گئے معیار زندگی پروگرام 2020ء کو سراہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت سعودی شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ان پر 130 ارب سعودی ریال لاگت آئے گی۔۔ڈاکٹر عصام سعید نے بتایا کہ وزارتی کونسل نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزارتی اجلاس میں منظور کردہ ڈھاکہ اعلامیے کا خیرمقدم کیا ہے۔۔بنگلہ دیشی دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں ’’ پائیدار امن ، یک جہتی اور ترقی کے لیے اسلامی اقدار ‘‘کے نام سے یہ اعلامیہ منظور کیا ہے۔

وزارتی کونسل نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں سپریم قومی الیکٹورل کمیشن کے صدر دفاتر پر گذشتہ ہفتے خودکش حملے کی مذمت کی ہے اور اس حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔وزارتی کونسل نے ماحول کے لیے قومی حکمت عملی اور ہر سال ماحول کے تحفظ کے لیے ایک ہفتہ مختص کرنے کی بھی منظوری دی ہے ۔۔سعودی عرب کی ماحول ، پانی اور زراعت کی وزارتیں اس فیصلے پر عمل درآمد کریں گی ۔

وہ سرکاری ادارے ،نجی شعبے اور ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو ہر سال موسم بہار میں اس ہفتے کے دوران میں منعقد کی جانے والی سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دیں گی،،سعودی کابینہ نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر مسلح حملے کی بھی مذمت کی ہے اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ نے سعودی مملکت کی جانب سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اقدامات کی حمایت کا اعاد ہ کیا ہے۔