میڈیکل اسٹورز پر شیڈول جی کے نفاذ کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

برائلر گوشت کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافے کے خلاف اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک التوائے کار بھی جمع کروا دی گئی

بدھ مئی 15:58

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) میڈیکل اسٹورز پر شیڈول جی کے نفاذ کے مطالبے کی قرارداد اور برائلر گوشت کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافے کے خلاف پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک التوائے کار جمع کروا دی گئی ۔تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شنیلا روت کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈرگز رولز پنجاب 2007ء کے تحت حکومت نے دو طرح کے لائسنس جاری کیے ، ایک میڈیکل اسٹورز اور دوسرا فارمیسی کے لیے ان رولز کے نفاذ پر دس سال کی چھوٹ دی گئی کہ میڈیکل اسٹورز دس سال کی مدت میں فارمیسی کے شیڈول جی میں آپ گریڈ کروانا تھا۔

مگر 90 فیصد میڈیکل اسٹوروں نے ابھی تک اپنے آپ کو آپ گریڈ نہیں کروایا۔میڈیکل اسٹورز مافیا اور وزارت صحت کی ملی بھگت سے وہ اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں،میڈیکل اسٹورز مافیا چاہتا ہے کہ اس کو حکومت مستقل استثنیٰ دے جس سے عوام کی زندگیوں کو بے شمار خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس عمل سے جعلی ادویات کی فروخت کا بازار بھی گرم رہے گا۔

(جاری ہے)

وائس پریزیڈنٹ پاکستان فارسسٹز ایسوسی ایشن ڈاکٹر فرقان ہاشمی نے بھی شیڈول جی کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس استثنی میں توسیع کے فیصلے کو آنے والی حکومت پر چھوڑ دے۔جبکہ تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی نبیلہ حاکم علی کی طرف سے جمع کروائی گئی تحریک التوائے کار میں کہا گیا ہے کہ پولٹری مافیا نے دس روز میں 20ارب شہریوں کی جیبوں سے نکال لیے ہیں۔

جو سرکاری اہلکار مارکیٹ میں قیمتیں طے کرتے ہیں وہ اپنا حصہ لے کر غائب ہو جاتے ہیں جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔مرغی کا گوشت 278تک پہنچ چکا ہے جو کہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور جا چکا ہے۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پیداوار کی کمی کو جواز بنا کر قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا جار اہے ۔لہذا استدعا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کی جائے۔