اسلام آباد ،وفاقی پولیس کی جانب سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے SOS کال کے ذریعے ریہرسل

پولیس کے سینئر افسران ،پاک آرمی ،پاک رینجرز،دیگر لاء انفورسمنٹ ایجنسیز،سی ڈی اے،این ایف ایس اے، فائر بریگیڈز اور ایمبولینسز نے حصہ لیا

بدھ مئی 17:01

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وفاقی پولیس کی جانب سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے SOS کال کے ذریعے ریہرسل کی گئی جس میں پولیس کے سینئر افسران ،پاک آرمی ،پاک رینجرز،،دیگر لاء انفورسمنٹ ایجنسیز،،سی ڈی اے،،این ایف ایس اے، فائر بریگیڈز اور ایمبولینسز نے حصہ لیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد نے دوسری لاء اینفورسمنٹ ایجنسیز کے ساتھ مل کر ایک جامع ایس او پی بنا یا ہے جس کے مطابق بدھ کے روز ایک بوگس کال دی گئی کہ نیشنل لائبریری میں بم دھماکے کی اطلاع اور کچھ دہشت گرداندر داخل ہو گئے ہیں جس پر وفاقی پولیس کے سینئر افسران جن میں آئی جی اسلام آ باد ڈاکٹر سلطا ن اعظم تیمو ری ، ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار احمد چوہا ن سمیت پاک آرمی ،پاک رینجرز کے افسران کے علاوہ دیگر لاء انفورسمنٹٹ ایجنسیز ،نیشنل فرانزک سائنس ایجنسی اور وفاقی پولیس کے تمام ونگز جائے وقوعہ پر پہنچے۔

(جاری ہے)

ایس او پی کے مطابق مقررہ وقت کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اسی دوران پولیس کے دوسرے تمام ونگز بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں اور متعلقہ اقدامات پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا۔فرضی کال چلتے ہی ضلع بھر میں ہائی الرٹ کردیا گیا اور تمام داخلی وخارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی جبکہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

اسی طرح ایس او پی کے مطابق جائے وقوعہ پر ایک میڈیا کارنر بنایا گیا جس کا مقصد میڈیا کو اصل حقائق کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ اس میڈیا کارنر پر میڈیا کو اس ریہرسل کے بارے میں آئی جی اسلام آباد نے تفصیلی بریفنگ دی۔واضح رہے کہ مذکورہ بوگس کال کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ریہرسل کے طور پر دی گئی تھی جس کے متعلق اسلام آباد پولیس کے افسران کو پہلے نہیں بتایا گیا تھا۔

بوگس کال کے اناونس ہوتے ہی وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی۔ریہرسل کے اختتام پر آئی جی اسلام آباد نے متعلقہ ایس او پی کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ریہرسل کا بنیادی مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنا ہے اور وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔اس ریہرسل کا بنیادی مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لئے پولیس اور دیگر تمام اداروں کااپروچ ٹائم کو چیک کرنا تھا انہوں نے کہا کہ تمام افسران خصوصاًپولیس کے کمانڈوز نے اپنے اپنے کردار کو بہترین طریقے سے ادا کیا ہے۔

ریہرسل میں جہاں اسلام آبد پولیس کے تمام ونگز کے افسران نے اپنا کردار ادا کیاوہاں دیگر متعلقہ شعبوں فائربریگیڈ ،ایمبولینسز نے بروقت اپروچ کی ہے اس ایس او پی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اہم ثابت ہو گا۔یہ ریہرسل کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فائدہ مند ثابت ہو گی اور اس میں جوغلطیاں ہوئیں ان پر دوبارہ قابو پایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ریہرسل آئندہ بھی ہو گی۔آئی جی اسلام آباد نے ریہرسل میں شامل اسلام آباد پولیس اور دیگر اداروں کے افسران کی ایس او پی کے مطابق تمام اقدامات اور جائے وقوعہ پر بروقت اپروچ پر ان کی کارکردگی کو سراہا ہے اور توقع ظاہر کی کہ آئندہ بھی تمام افسران ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے ۔