زکوٰة و عشر کے نظام کے تحت غریب و نادار لوگوں کو گزارہ الائونس ، جہیز فنڈ، تعلیمی وظائف اور علاج معالجے کیلئے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے،فضل الرحمان بلوچ

بدھ مئی 23:29

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) زکوٰة و عشر کمیٹی کے چیئر مین فضل الرحمٰن بلوچ نے کہا ہے کہ زکوٰة و عشر کے نظام کے تحت غریب و نادار لوگوں کو گزارہ الائونس ، جہیز فنڈ، تعلیمی وظائف اور علاج معالجے کیلئے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ ماہانہ گزارا الائونس فی خاندان دو ہزار روپے ہے جبکہ جہیز فنڈ بیس ہزار روپے فی کس ہے جو چھ ماہ میں ایک مرتبہ دیا جاتا ہے ،تعلیمی وظائف کالج و یونیورسٹی اور دینی مدارس کے نادار وغریب طلباء کو طالبات کو دیئے جاتے ہیں۔

ہمارے پاس ڈیرہ میں تیس دینی مدارس رجسٹرڈ ہیں، فنڈز1998 کی مردم شماری کی بنیاد پر مل رہے ہیں اب ضرورت ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق فراہم کیئے جائیں۔

(جاری ہے)

زکوة وعشر کمیٹی میں ضلعی سطح پر سات مرد اور دو خواتین ارکان سمیت سوشل ویلفئیرآفیسر،ڈپٹی کمشنر اور دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح الیکشن سلیکشن کی بنیاد پر مقامی کمیٹیاں منتخب کی جاتی ہیں سات مرد اور دو خواتین عوامی رائے کے زریعے اور چیئر مین و نائب چیئر مین اراکین منتخب کرتے ہیں جو دس منزلہ نفوض پر مشتمل آبادی کیلئے ہوتی ہے جو ایک سو اکیاسی ہیں، ضرورت پڑے تو ضلعی چیئر مین کو ایڈ منسٹریٹر مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے دس ہزار کی آبادی میں گزارا الائونس سے صرف نو خاندان مستفید ہوسکتے ہیں، محکمہ صحت میں ایم ٹی آئی نظام آنے کے بعد صحت فنڈ استعمال میں نہیں لایا جارہا جسکی وجہ سے غریب بیماروں کو مشکلات در پیش ہیں۔

ہسپتال کے حکام خود کنٹریکٹ پر دکان لے رہے ہیں نہ ہی زکوة وعشرکمیٹی کیساتھ تعاون کر رہے ہیں میرے دور میں ہر چھ ماہ بعد نوے لاکھ روپے کے فنڈز آئے اور جاری ششماہی کے پچانوے فیصد فنڈز تقسیم ہوچکے ہیں۔ بعض وجوہات کی بناء پر تعلیمی وظائف کی تقسیم تاخیر کا شکار رہتی ہے اس وقت نادار خواتین کو ہنر مند بناکر با عزت روزگار کے قابل بنانے کیلئے اسکیم جاری ہے جنہیں ماہانہ تیرہ سے چودہ سو روپے فی کس وظائف اور آخر میں آلات واوزار کیلئے آٹھ ہزار روپے دیئے جائینگے۔