سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا سینٹ کو مالیاتی اختیارات دینے کا مطالبہ

سینیٹ کے اختیارات قومی اسمبلی کے برابر ہونے چاہئیں ،ْ ہماری سفارشات کو نہیں ماننا تو ہمارے یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے ،ْ شیری رحمن ،ْ فاروق ایچ نائیک ،ْ انوار الحق کاکڑ ،ْ مشتاق احمد خان ،ْ سسی پلیجو و دیگر کا اظہارخیال فنانس بل اور پی ایس ڈی پی سمیت سینیٹ کے اختیارات بڑھانے کے حوالے سے سینٹ کی قرارداد پر عمل کیا جائے ،ْ چیئر مین سینٹ

جمعرات مئی 22:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے سینٹ کو مالیاتی اختیارات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سینیٹ کے اختیارات قومی اسمبلی کے برابر ہونے چاہئیں ،ْ ہماری سفارشات کو نہیں ماننا تو ہمارے یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے جبکہ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے رولنگ دی ہے کہ فنانس بل اور پی ایس ڈی پی سمیت سینیٹ کے اختیارات بڑھانے کے حوالے سے سینٹ کی قرارداد پر عمل کیا جائے۔

جمعرات کو اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے عوامی اہمیت کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کو منی بل کے حوالے سے اختیارات دیئے جائیں۔ اس حوالے سے کئی بات بات ہو چکی ہے، قراردادیں بھی پیش ہوئیں لیکن سینیٹ کے مالیاتی اختیارات نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ سینیٹ کے اختیارات قومی اسمبلی کے برابر ہونے چاہیں۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سینیٹ کو مزید اختیارات دیئے جائیں، بیلنس آف پاور ہونا چاہئے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمان سینیٹ،، اسمبلی اور صدر پاکستان پر مشتمل ہے، منی بل صرف قومی اسمبلی میں ہی پیش ہو سکتا ہے، ہم جو سفارشات دیتے ہیں وہ قومی اسمبلی کو بھیج دی جاتی ہیں، قومی اسمبلی ان سفارشات پر توجہ نہیں دیتی اور ہماری تجاویز کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، آئین خاموش ہے کہ یہ سفارشات منظور کرنا ضروری ہیں یا نہیں اور کیا مسترد کرنے کی وجوہات دینا ہوں گی یا نہیں۔

سینیٹ کی فنانس کمیٹی جو اتنی محنت کرتی ہے اور اس پر جو قومی خزانہ سے رقم لگتی ہے وہ ضائع چلی جاتی ہے۔ قائد ایوان حکومت سے بات کر کے ایک بل لے آئیں، اس پر بحث ہو۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ سینیٹ ہائوس آف فیڈریشن ہے۔ اس میں سب صوبوں کی نمائندگی ہے۔ آئینی خلاء کو پُر کیا جانا چاہئے۔ سکندر میندھرو نے کہا کہ منی بل میں سینیٹ کے مشورے کی بھی اہمیت ہونی چاہئے۔

یہ ایوان مستقل رہتا ہے۔ قومی اسمبلی کی طرح تحلیل نہیں ہوتا اس لئے آئین میں جو کمزوری ہے اس کو دور کیا جائے۔ سینیٹر اے رحمان ملک نے کہا کہ صدر، وزیراعظم،، سپیکر بھی ان ڈائریکٹ منتخب ہوتے ہیں۔ سینیٹ ایوان بالا ہے ،ْ اس کو اہمیت دینی چاہئے۔ ہماری سفارشات ماننا ناگزیر نہیں ہوتا، ان کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، ہماری سفارشات کو نہیں ماننا تو ہمارے یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ ہماری سٹیٹ کا سٹرکچر عدم توازن کا شکار ہے۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ اس حوالے سے سینیٹ متفقہ قرارداد منظور کر چکی ہے۔ طاہر بزنجو نے کہا کہ وفاق کی اس علامت ایوان کو ہم نے مباحثے کے کلب میں تبدیل کر دیا ہے۔ جاوید عباسی نے کہا کہ یہ آئینی معاملہ ہے، اس کو آئینی انداز میں دیکھنا ہوگا۔ اس بارے میں اگر کمیٹی بنا دی جائے تو بہتر ہے۔

دونوں ایوانوں کے ممبران اس کمیٹی میں ہونے چاہئیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ سینیٹ بہت محنت سے سفارشات تیار کرتی ہے، انہیں اہمیت دینی چاہئے۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہا کہ سینیٹ کے مالیاتی اختیارات کے حوالے سے کمیٹی آف دی ہول کے اجلاس میں بھی بات ہوئی تھی۔ کمیٹی بنا کر اس معاملے پر بات کی جائے۔ سینیٹر امام دین نے سینیٹ کے اختیارات بڑھانے کی تجویز دی۔

سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ جو اختیارات ایوان زیریں کو حاصل ہیں وہ ایوان بالا کو حاصل کیوں نہیں۔ یہ عجیب منطق ہے کہ ایوان بالا کو بجٹ کے حوالے سے اختیارات نہیں۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ سینیٹ ہائوس آف فیڈریشن ہے۔ سینیٹ کے اختیارات قومی اسمبلی کے برابر ہونے چاہئیں۔ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بھی ہو تو قومی اسمبلی سینیٹ کی رائے کو عددی اکثریت کی بناء پر بلڈوز کر سکتی ہے۔

اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رولنگ دی کہ فنانس بل اور پی ایس ڈی پی سمیت سینیٹ کے اختیارات بڑھانے کے حوالے سے ایوان بالا کی قرارداد پر عمل کیا جائے۔ ارکان کی طرف سے فنانس بل اور منی بل پر سینیٹ کے اختیارات کے حوالے سے اظہار خیال کے بعد رولنگ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ کے فنانس بل اور پی ایس ڈی پی سمیت اختیارات کے حوالے سے حکومت ایوان بالا سے منظور کی گئی قرارداد پر عمل کرے۔

اجلاس کے دور ان وومن ان ڈسٹریس اینڈ ڈیٹینشن فنڈ (ترمیمی) بل 2017ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے وویمن ان ڈسٹریس اینڈ ڈیٹینشن فنڈ ایکٹ 1996ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل وویمن ان ڈسٹریس اینڈ ڈیٹینشن فنڈ (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق، کمسن بچوں کے لئے فوجداری قانون وضع کرنے کے بل قانون برائے کمسن بچے بل 2018ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔

چیئرمین فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے قانون برائے کمسن بچے بل 2018ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کے دور ان سینیٹ میں فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2018ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔چیئرمین فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860ء اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء میں مزید ترمیم کے بل فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2018ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔

اجلاس کے دور ان سینیٹ میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری تحفظ اطفال بل 2018ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ چیئرمین فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں بچوں کے تحفظ اور نگہداشت کو وضع کرنے کے بل اسلام آباد کیپیٹیل ٹیریٹری تحفظ اطفال بل 2018ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔