کھیلوں کے شعبہ میں پاکستان کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے کارپوریٹ سپانسرز کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور ملک کے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیلئے انہیں زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کرنے چاہئیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دولت مشترکہ گیمز 2018ء میں کامیاب کھلاڑیوں کے اعزاز میں تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 23:06

کھیلوں کے شعبہ میں پاکستان کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے کارپوریٹ سپانسرز ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کھیلوں کے شعبہ میں پاکستان کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے کارپوریٹ سپانسرز کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور ملک کے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیلئے انہیں زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں وزیراعظم آفس میں دولت مشترکہ گیمز 2018ء میں کامیاب کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب میں وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ، وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر، وزیر قانون محمود بشیر ورک، وزیر سفیران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور مختلف اولمپک ایسوسی ایشنز کے نمائندگان اور کھلاڑیوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے حکومت کی محدود معاونت کے باوجود ملک کیلئے اعلیٰ اعزازات لانے پر کھلاڑیوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دولت مشترکہ کھیلوں میں جو کامیابیاں حاصل کی گئیں وہ کھلاڑیوں کی ذاتی کاوشوں کی بدولت ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینا بڑے اعزاز کی بات ہے جیسا کہ ان کھیلوں میں 53 ملکوں کے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی نوجوانوں کے میڈلز جیتنے پر خوشی ہوئی، بہت عرصہ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامن ویلتھ گیمز میں تمغے جیتے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کی مسابقانہ کھیلوں میں شرکت بھی بہت اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کھلاڑیوں نے تمغے جیتے انہوں نے کم و بیش 53 ممالک سے کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کے بعد یہ اعزازات جیتے جو ان کیلئے ایک اثاثہ ہیں۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے پاکستان میں کھیلوں کی بحالی میں بہت مدد کی حالانکہ 18 ویں ترمیم کے بعد کھیل صوبائی معاملہ بن چکا ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے مزید وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں لیکن اس کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ پاکستان کی فٹ بال کی صنعت عالمی کپ کیلئے فٹ بال مہیا کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے فٹ بال کی صنعت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک میں کھیلوں کے شعبہ کی بہتری کیلئے وسائل فراہم کرے، ماضی میں پی آئی اے ہاکی کے کھیل کو سپانسر کیا کرتی تھی جس میں پاکستان نے بہت عرصہ حکمرانی کی۔

وزیراعظم نے وزارت پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے کھیل تلاش کرے جس میں پاکستان بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ بعد ازاں وزیراعظم نے ریسلر انعام بٹ کو 50 لاکھ روپے مالیت کا چیک پیش کیا جنہوں نے کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا جبکہ کانسی کا تمغہ جیتنے والے طیب رضا کو 10 لاکھ روپے کا چیک دیا گیا۔ وزیراعظم نے ان مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھانے والے دیگر کھلاڑیوں کو بھی انعامات دیئے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کاوشوں اور وزارت کے سخت فیصلوں کی بدولت ملک میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے دولت مشترکہ کھیلوں میں 10 تمغے جیتنے کے علاوہ ماضی قریب میں کئی دیگر مقابلوں میں بھی اعزازات حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کیلئے یومیہ الائونس دوگنا کر دیا گیا ہے، اسلام آباد 2 آسٹرو ٹرف بچھائی گئی ہیں تاکہ وفاقی دارالحکومت میں ہاکی کے کھلاڑیوں کو بہتر تربیت دی جا سکے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے وزیراعظم کو سپورٹس بورڈ کی طرف سے یادگاری شیلڈ پیش کی۔ وزیراعظم نے کھلاڑیوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔