فاٹا میں لڑکیوں کے اسکولوں پر حملوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں‘ ایچ آر سی پی

جمعہ مئی 16:59

فاٹا میں لڑکیوں کے اسکولوں پر حملوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں‘ ایچ آر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں لڑکیوں کے اسکولوں پر ہونے والے دو حالیہ حملوںکی تحقیقات کرے۔ میڈیا کی اطلاعات جن کی ایچ آر سی پی کے آزاد ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کے مطابق اسکولوں کی عمارتوں کو 7 اور 8 مئی کو ہونے والے دو مختلف بم دھماکوں کے باعث نقصان پہنچا۔

مقامی رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک جنگجو گروہ کی جانب سے پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی بالغ بیٹیوں کو اسکول نہ بھیجیں۔اگرچہ مقامی انتظامیہ ان واقعات کی تصدیق پر رضامند دکھائی نہیں دیتی ، تاہم ایچ آر سی پی کے ذرائع ظاہر کرتے ہیں کہ شمالی وزیرستان کے رہائشیوں نے علاقے میں جنگجو گروہوں کے دوبارہ ابھرنے سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

جاری ہونے والے ایک بیان میں ایچ آر سی پی نے ان پیش رفتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: کمیشن کو یہ جان کر دھچکا لگا ہے کہ علاقہ مکینوں کو کھلے عام دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اسکول نہ بھیجیں۔ یہ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان کا ہر بچہ اسکول جائے۔ کسی بھی فرد یا گروہ کو انہیں روکنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

ایسے واقعات فاٹا میںمشکل سے قائم کیے گئے امن میں رکاوٹ کا باعث بنیں گے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ ایچ آر سی پی حکام پر زور دیتا ہے کہ لوگوں کے جاننے کے حق کے مفاد میں اور ان کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے، صورتحال کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔