چیف جسٹس سپریم کورٹ سرگودہا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی میرٹ سے ہٹ کر تقرری کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کل کریں گے

لاہور ہائیکورٹ میں بھی سرگودھا یونیورسٹی میں کئی افسران کی غیر قانونی تقرریوں و ترقیوں کے اہم ترین کیس کی سماعت پیر کوہوگی

جمعہ مئی 20:38

چیف جسٹس سپریم کورٹ سرگودہا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی میرٹ سے ہٹ ..
اسلام ۱ٓباد /سرگودھا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) چیف جسٹس سپریم کورٹ ۱ٓف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد کی خلاف ضابطہ اور میرٹ سے ہٹ کر تقرری کا سو مو ٹو نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن (ر) زاہد سعید سے ۱ٓج ہفتہ کو مکمل و تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے اور ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے کہ سرگودھا یونیورسٹی سمیت پنجاب کی دیگر یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کی تقرری کا طریقہ کار کیا ہے اور مشتہر کردہ قواعد و ضوابط کے برعکس تقرریاں کس طرح کی گئی ہیں۔

یہ کاروائی ۱ٓل پاکستان فیڈریشن ۱ٓف یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر جاوید احمد کی درخواست پر عمل میں لائی گئی ہے جس میںمئوقف اختیار کیا گیاکہ سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری سراسر ناجائز و غیرقانونی طور پرمیرٹ کو پامال کرتے ہوئے کی گئی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد قائداعظم یونیورسٹی اسلام ۱ٓباد میں بطور ٹنیور ٹریک ایسوسی ایٹ پروفیسر تعینات ہونے کے باعث وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی کی ۱ٓسامی پر اپلائی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہ تھے کیونکہ انہیں ایک دن کا بھی بطور وی سی، ڈین، فل پروفیسر، ہیڈ ۱ٓف دی ڈیپارٹمنٹ،فنانشل و ایڈمنسٹریٹو تجربہ نہ تھا اور نہ ہی انکے پاس 15پبلی کیشنز موجود تھیں مگر پھر بھی متعلقہ قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نامعلوم دبائو پر ملی بھگت سے پہلے انہیں نہ صرف شارٹ لسٹ بلکہ بعدازاں کرائی ٹیریا پر پورا اترنے والے دیگر اہل امیدواروں کی موجودگی نظر انداز کرتے ہوئے وائس چانسلر سلیکٹ بھی کرلیا گیا اس طرح یونیورسٹی کے بیس ہزار طلباء و طالبات کاتعلیمی،تدریسی،تحقیقی مستقبل اور ادارہ کی ساکھ کو دائو پر لگادیا گیا۔

انہوں نے وی سی کومذکورہ عہدہ کیلئے نا اہل قرار دیتے ہوئے برطرفی کے احکامات صادر فرمانے کی بھی استدعا کی جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ ۱ٓف پاکستان نے چیف سیکرٹری پنجاب سے ۱ٓج 12 مئی بروز ہفتہ کو مفصل رپورٹ طلب کر لی ہے جس کی روشنی میں وی سی کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائیگا۔علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ میں بھی وائس چانسلرسرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمدکی تقرری چیلنج کرنے کے دوسرے اہم ترین کیس کی سماعت 14مئی بروز پیر کو ہوگی جس میں جسٹس شاہد کریم کے روبرو فریقین کے وکلاء حتمی دلائل پیش کریں گے اور توقع ہے کہ اسی روزکیس کا فیصلہ بھی سنایا جا ئے گا۔

گزشتہ روز جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں ہونیوالی سماعت کے موقع پر فریقین کی جانب سے جوابات داخل کروائے گئے اوربحث بھی کی گئی جس میں درخواست گزار حسنین رضا باروی کے وکیل شیخ جمشید حیات ایڈووکیٹ نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد قائداعظم یونیورسٹی اسلام ۱ٓباد میں بطور ٹنیور ٹریک ایسوسی ایٹ پروفیسر تعینات ہونے کے باعث وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی کی ۱ٓسامی پر اپلائی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہ تھے مگر پھر بھی متعلقہ قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے انہیں تعینات کردیا گیا۔

انہوں نے مذکورہ تقرری منسوخ کرنے کی استدعا بھی کی۔مزید بر ۱ٓں لاہور ہائیکورٹ میں وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی کی جانب سے میرٹ کو پامال کرتے ہوئے کی گئی منظور نظر افراد کی غیر قانونی تقرریوں و ترقیوں کے کیس کی سماعت بھی اگلے ہفتہ متوقع ہے نیز جسٹس علی باقر نجفی کی لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں تعیناتی کے باعث اب کیس کی سماعت جسٹس شاہد کریم کریں گے۔

قبل ازیں کیس کی گزشتہ سماعت کے دوران جج موصوف نے وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جواب داخل نہ کروائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں حکم دیا تھاکہ وہ ہر صورت جواب داخل کروائیں بصورت دیگر وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد خود عدالت میں پیش ہوکر اس ضمن میں وضاحت کریں۔انہوںنے غیر قانونی بھرتیوں کا دفاع کرنے پربھی وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد پر برہمی کا اظہار کیاتھا۔

پٹیشنر محمدشفیق مرزا نے اپنی پٹیشن میں مئوقف اختیار کررکھاہے کہ سرگودھا یونیورسٹی میں ایڈیشنل رجسٹرار اظہار الحق ،ایڈیشنل ٹریژرمحمد مقصود ،اسسٹنٹ رجسٹرار محمد فاروق ،ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر محمد بشیر ،اسسٹنٹ رجسٹرار محمد شفیق الرحمان ،اسسٹنٹ رجسٹرار فارق احمد ،ڈپٹی ٹریژرفیاض الحق ،ڈپٹی کنٹرولر مقصود احمد ،اسسٹنٹ ٹریژرمحمد مقصود ،لیکچرار محمد طلال اور اسسٹنٹ پروفیسر اعجاز اصغر بھٹی وغیرہ کی تقرریاں خلاف قانون اور بلا اشتہار کی گئی ہیں جبکہ مذکورہ غیر قانونی بھرتیوں پر یونیورسٹی کے کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں۔

انہوں نے مئوقف اختیار کیا کہ آڈیٹر جنرل پنجاب بھی سرگودھا یونیورسٹی میں 16افراد کی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے کر محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کو انہیں نکالنے کا حکم دے چکے ہیں مگر وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمدغیر قانونی بھرتیوں کے خلاف کارروائی نہیں کررہے۔###