ذاتی حیثیت میں رویت ہلال کمیٹی کاقیام اور روزہ وعیدین کے اعلانات پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

جمعہ مئی 21:56

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) خیبر پختو نخوا میں حکومتی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے برعکس ذاتی حیثیت میں رویت ہلال کمیٹی قائم کرنا اور روزہ وعیدین کے اعلانات کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کیا گیا ہے ،روزہ وعیدین کے الگ اعلانات کیخلاف نوشہر ہ کے رہائشی ہدایت خان نے ایڈوکیٹ محمد خورشید کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرائی ہے جس میں درخواست گزار نے موقف اپنا یا ہے کہ پشاورمیں گزشتہ کئی سالوں سے مقامی سطح پر رویت ہلال کمیٹیاں مساجد سے اعلانات کرکے روزہ اور عیدین کے اعلانات کراتے ہیں جس کے باعث خیبر پختو نخوا کے عوام دو حصوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں اور شہری ایک دوسرے کیساتھ مہینہ بھر صحیح اور غلط روزہ رکھنے کے لایعنی بحث میں پڑجاتے ہیں ،خیبر پختو نخوا میں ایک ساتھ روزہ اور عیدین منانا خواب بن کر رہ گیا ہے سائل کے علم کے مطابق روزہ اور عیدین کا اختیاراسلامی شریعت کی رو سے اسلامی ریاست میں مسلمان حاکم وقت یا اس کے مقررہ کردہ شخص یا کمیٹی کو حاصل ہے جو شریعت میں شرعی قاضی کی حیثیت رکھتا ہے ،حکومت پاکستان نت مختلف مکاتب فکر پر مشتمل علماء کرام کی رویت ہلال کمیٹی قائم کر رکھی ہے جوکہ تمام پاکستان کے لئے شرعی قاضی کے حیثیت رکھتی ہے اور رویت ہلال کمیٹی شہادتوں کی بناء پر روزہ وعیدین کی اعلانات کرتی ہے جس پر پورے ملک کے مسلمان من وعن عمل کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کے پی میں چند سیاست زدہ مولوی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی علیحڈہ کمیٹی بناکر رویت کمیٹی کے اعلان سے اختلاف کرتے ہیں اور اپنی مساجد سے روزہ وعیدین کا اعلان کرتے ہیں ،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اعلانات پر رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق عمل کرایا جائے اور پورے خیبر پختو نخوا میں ایک روز روزہ اور عیدین منانے کو یقینی بنایا جائے اور ذاتی حیثیت میں بنائی گئی قائم کمیٹیوں پر فہ الفور پابندی عائد کی جائے اور کسی بھی شکص اور اشخاص کو ک روزہ وعیدین کے اعلانات کرنے پر قانونی کارروائی کرکے سخت سزا دی جائے ۔