ٹھٹھہ میں جھرک کے مقام پر 2000 ہزار سالہ قدیم قبرستان کو اوباش افراد نے خزانے کی تلاش میں کھود ڈالا

متعد قدیم قبریں مسمار کردی گئیں، کئی کو جزوی نقصان پہنچایا گیا ، واقعہ انتظامیہ اور محکمہ آثار قدیمہ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ٹھٹھہ سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود سکندر اعظم اور بدھ مت ہندو دیوتا اشوکا کے دور کے تاریخی آثار تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے

جمعہ مئی 23:14

ٹھٹھہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ٹھٹھہ میں جھرک کے مقام پر 2000 ہزار سالہ قدیم قبرستان کو اوباش افراد نے خزانے کی تلاش میں کھود ڈالا۔ متعد قدیم قبریں مسمار کردی گئیں۔ کئی کو جزوی نقصان پہنچایا گیا۔ ایک سال میں دوسری مرتبہ پیش آنے والا واقعہ انتظامیہ اور محکمہ آثار قدیمہ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ٹھٹھہ سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود سکندر اعظم اور بدھ مت ہندو دیوتا اشوکا کے دور کے تاریخی آثار تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔

(جاری ہے)

تاریخی مقامات کی دیکھ بھال نہ ہونے کیباعث نئی نسلین آپنے تاریخی حصہ سے محروم ہو رہی ہیں خزانے کے متلاشی افراد نے 2000 ھزار سالہ تاریخی مقام میں 1300 سو سالہ اور 500 سالہ قدیم قبرون کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا 2000 سالہ تاریخی آثار جھرک میں میران شاہ قبرستان کے نام سے جانا جاتا ہے مجرموں نے قدیم قبروں کو چار فٹ تک کھود ڈالا دوران کھدائی کئی قبریں مکمل ختم طور پر ختم ہوگئیں اور متعد کو کھدائی کے دوران قدیم نقش و نگار سے محروم کردیا گیا ہے قدیم آثار کی بربادی اور انتظامیہ کا قردار نئی نسلوں کو اپنی شناخت سے محروم کررہا ہے واضع رہے کہ ایک سال قبل بھی اس طرح کی گھنانی حرکت کی گئی جس میں بڑے پیمانے پر قبرون کو نقصان پہنچایا گیا تھا تاہم پیش رفت نہ ہونے اور ملزمان کی عدم گرفتاری پر دوسری مرتبہ یہ عمل دوہرایا گیا ہے اس ضمں میں مقامی آثار سے دلچسپی رکھنے والے محقق محمد علی مانجھی کاکہا ہے کہ قدیم آثار کو نقصان پہنچانے والوں کوفل فور حراست میں لیکر کیفر قردار تک پہنچایا جائے اور محکمہ آثار قدیمہ کی مجرمانہ غفلت کا سدباب کرکے قومی ورثہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ عنوان :