وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس‘ ملک میں پانی کی موجود صورتحال کا جائزہ لیا گیا گیا‘ سیکرٹری برائے وزارت آبی وسائل نے اجلاس کو پانی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا

جمعہ مئی 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک میں پانی کی موجود صورتحال کا جائزہ لیا گیا گیا ۔اجلاس میں وزیر پاور ڈویژن ،وزیر اعظم کے سیکرٹر ی نے بھی شرکت کی ۔ سیکرٹری برائے وزارت آبی وسائل نے اجلاس کو پانی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا ۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ارسا اور واپڈ سے جمع کیئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں کم برف باری کی وجہ سے پاکستا ن کو خریف کے سیزن کے لیئے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

گزشتہ دس سالوں میں 2010ء میں کم برف باری ہوئی تھی اور یہ تقریبا 45فیصد تھی جبکہ رواں سال برف باری اس سے بھی پانچ فیصد کم رہی ہے ۔جبکہ گزشتہ سال 54فیصد ہوئی تھی ۔

(جاری ہے)

موسم سرما میں کم برف باری کی وجہ سے ارسا نے اپریل میں یکم اپریل سے دس جون تک پانی کی 31فیصد کمی کا اعلان کیا تھا اپریل سے اب تک پانی کی دستیابی مزید 15فیصد کم رہی ہے جس کی وجہ سے یہ ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی ہے اور پانی کی یہ کمی 45سے 50فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے ۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اپریل سے اب تک پانی کی دستیابی پچھلے 16سال میں کم ترین سطح پر ہے جس کی وجہ سے گزشتہ پانچ سال کے دوران پن بجلی کی پیداوار میں بھی کمی ہوئی ہے‘ درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ارسا توقع کرتی ہے کہ جون کے پہلے ہفتے تک پانی کی دستیابی میں اضافہ ہو جائے گا تاہم جون کے آخر تک آبپاشی کی زیادہ سے زیادہ ضروریات پوری کرنے کے لئے پانی دسیتاب ہو گا ۔۔پانی کی کمی سے خریف کی فصلوں کی کاشت اور پن بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے ۔دس مئی کو تربیلا منگلا اور چشمہ میں پانی ذخیرہ کرنے کا گزشتہ پانچ سال کا تقابلی جائزہ کچھ اس طرح ہے ۔