پاکستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ اننگز کے بعد کرکٹ چھوڑنے کا سوچنے لگا تھا ،ْٹنڈولکر

وقار یونس او ر وسیم اکرم کے سامنے ایڈجسٹ نہیں کر پارہا تھا ،ْکھلاڑیوں نے حوصلہ دیا ،ْ انٹرویو

ہفتہ مئی 13:15

ممبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) عالمی شہرت یافتہ سابق بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد انہوں نے کرکٹ چھوڑنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا۔ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عظیم بلے باز نے کہا کہ کراچی میں پاکستان کے خلاف اپنی پہلی اننگز کے بعد انہیں لگا کہ یہ ان کے کیریئر کی آخری اننگز ہے کیونکہ وہ بالکل بھی ایڈجسٹ نہیں کر پا رہے تھے۔

انہوںنے کہاکہ میری زندگی کی پہلی اننگز کراچی میں تھی۔ مجھے لگا کہ یہ میری پہلی اور آخری اننگز ہو گی۔ پہلے میچ میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ایک اینڈ سے وقار یونس باؤلنگ کر رہے تھے اور دوسرے اینڈ سے وسیم اکرم بھرپور فارم میں تھے۔ اور ان کی گیند ریورس ہونا شروع ہو چکی تھی ،ْوہاں کھیلنے کے دوران میں بالکل ایڈجسٹ نہیں کر پا رہا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب میں اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بتایا کہ میں کرکٹ چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں خود کو کچھ وقت دوں کیونکہ یہ انٹرنیشنل کرکٹ ہے اور میں دنیا کے بہترین باؤلنگ اٹیک کا سامنا کر رہا تھا تاہم اس میچ کی دوسری اننگز میں 59 رنز اسکور کیے جس کے بعد میں نے خود کو شاباش دی۔انٹرویو کے دوران سچن ٹنڈولکر نے ایک اور انکشاف کیا کہ مہندرا سنگھ دھونی سے گفتگو کے دوران انہیں اندازہ ہوا کہ دھونی کے اندر قائدانہ صلاحیت موجود ہے۔

یاد رہے کہ 2007 ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ میں بھارتی ٹیم کے اخراج کے بعد مہندرا سنگھ دھونی کو سینئرز کی موجودگی میں بھارتی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی اور دھونی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ان کو قائدانہ منصب تک پہنچانے کا سہرا ٹنڈولکر کو جاتا ہے۔سچن نے بتایا کہ میں جب بھی سلپ میں فیلڈنگ کرتا تھا تو میں مستقل دھونی سے فیلڈنگ پوزیشنز کے حوالے سے گفتگو کیا کرتا تھا، میں ہمیشہ اپنی رائے کا اظہار کرتا اور ان کے خیالات بھی دریافت کرتا اور اسی گفتگو کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ ان میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں۔