جنوبی وزیرستان کے علاقہ وادی کانی گرم میں تیس ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل بلاک بنادیا گیا

خانہ شماری اور مردم شماری بھی آدھی ہوئی تھی،آدھی آبادی خانہ شماری و مردم شماری سے رہ گئی تھی،مقامی عمائدین بڑے بڑے بلاکوں کو توڑ کر قانون کے مطابق بلاک بنائے جائیں،الیکشن کمیشن سے مطالبہ

اتوار مئی 18:50

جنوبی وزیرستان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) فاٹا کے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان کے وادی کانی گرم میں تیس ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل ایک ہی بلاک بنادیاگیا ہے۔مقامی عمائدین کے مطابق خانہ شماری اور مردم شماری بھی آد ھی ہوئی تھی اور آدھی آبادی خانہ شماری و مردم شماری سے رہ گئی تھی۔قبائلی عمائدین نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بڑے بڑے بلاکوں کو توڑ کر قانون کے مطابق بلاک بنائے جائیں۔

ان خیالات کا اظہار فاٹا کے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان کے حسین وادی کانی گرم کے دورے کے موقع پر قبائلی عمائدین نے صحافیوں کے وفد کو بتایا ۔صحافیوں کا وفد جنوبی وزیرستان میں الیکشن سے متعلق علاقے کا جائزہ لینے کے لئے دورہ پر تھے۔قبائلی عمائدین ملک عبدالقدیر برکی علمائی ،ملک یعقوب خان برکی،ملک گل زار شاہ برکی،ملک رسول جان برکی اور دیگر کا کہناتھا کہ فاٹا کے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان کے حسین وادی کانی گرم کی جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توجہ مبزول کرانا چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

کانی گرم میں تیس ہزار،17ہزار ،9ہزارافراد پر مشتمل آبادی سے ایک بلاک بنادیاگیا ہے۔جبکہ قانون کے مطابق ایک بلاک ایک ہزار سے لیکر تقریبا پندرہ سو پر مشتمل ہوتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ جنوبی وزیرستان میں خانہ شماری اور مردم شماری کے علاوہ بلاک بنانے کے لئے ملک کے قانون سے ہٹ کر اپنی مرضی سے بلاک اور یونین کونسل بنادئے گئے ہیں۔قبائلی عمادئین کا کہناتھا کہ مردم شماری اور خانہ شماری کے وقت سخت سردی اور اپریشن راہ نجات کے دوران مکانات کی تباہی کی وجہ سے خانہ شماری اور مردم شماری کا کام نہایت ہی مشکل تھا ۔

بلاک بڑا ہونے اور سٹاف کی کمی کی وجہ سے خانہ شماری اور مردم شماری کا آدھا کام مکمل ہوا تھا اور آدھا کام رہ گیا تھا ۔ان کا کہناتھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے دفتر میں کمپیوٹر کلک کریں اور کانی گرم کی آباد کو مد نظر رکھ کر اس کے بڑے بڑے بلاک پر غورکریں۔اور ان بڑے بڑے بلاکوں کو توڑ کر قانون کے مطابق بلاک بنا دئے جائیں۔قبائلی عمائدین نے دھمکی دی کہ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس سلسلے میں توجہ نہ دی تو ہم پشاور اور اسلام آباد میں دھرنوں پر مبجور ہو جائیں گے۔