بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل ہے ، طرز زندگی بدل کر باقائدہ ہلکی ورزش ، واک اور سادہ غذا سے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے،ڈاکٹر شہباز قریشی

منگل مئی 18:10

چکوال۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر شہباز قریشی نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل ہے ، اس وقت پاکستان میں ایک تہائی آبادی جس میں جوان سے لیکر بڑے بوڑھے شامل ہیں اس مرض میں مبتلا ہیں ۔ بلڈ پریشر کا حملہ ، دل ،دماغ،گردوں اور جسم کے اہم حصوں پر ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں آدمی اپاہج ہو جاتا ہے۔ طرز زندگی بدل کر باقائدہ ہلکی ورزش ، واک اور سادہ غذا سے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

وہ منگل کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع چکوال کے زیر اہتمام ہائیپر ٹینشن ڈے کے حوالے سے منعقد سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جو یہاں پی ایم اے ضلع چکوال کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود ملک کی صدارت میں ہائیڈ پارک پریس کلب میں منعقد ہوا۔

(جاری ہے)

سیمینار سے جن دیگر مقررین نے خطاب کیا ان میں ڈاکٹر کرنل غلام شبیر، ڈاکٹر منیر احمدلنگاہ، چکوال چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی نذیر سلطان، چکوال چیمبر کے بانی قاضی محمد اکبر ، چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابرسلیم محمود اور پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود ملک نے بھی کیا۔

ڈاکٹر شہباز قریشی نے مزید کہا کہ فاسٹ فوڈ،کولڈ ڈرنکس کی وجہ سے نوجوان نسل تیزی سے موٹاپے کا شکار ہے اور موٹاپا بھی بلڈپریشر کے اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند شخص کا بلڈ پریشر 120اور80کے درمیان رہنا چاہیے۔ پچا س سال سے اوپر عمر کے شخص کا بلڈ پریشر150سے اوپر بڑھے تو اس کا ہر صورت ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر شہباز قریشی نے بتایا کہ سردرد اور دیگر چھوٹی موٹی بیماریوں کی تشخیص کی جائے تو اس کی سب سے بڑی وجہ بلڈ پریشر نکلتی ہے۔

دیگر مقررین نے بھی اس امر پر زور دیا کہ عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کیلئے اس قسم کے سیمینار منعقد کیے جائیں تاکہ عام آدمی بھی ان بیماریوں کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکے اور حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ان بیماریوں سے محفوظ رہ کر صحت مند زندگی گزار سکے۔سیمینار کے آخر میں اس کے حوالے سے اظہار یکجہتی کیک بھی کاٹا گیا۔