رواں مالی سال کے پہلی10 ماہ،2.24ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری

جولائی سے اپریل کے دوران 2ارب 23کروڑ78لاکھ ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی

بدھ مئی 15:28

رواں مالی سال کے پہلی10 ماہ،2.24ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) پاکستان میں رواں مالی سال کے ابتدائی 10ماہ (جولائی سے اپریل)کے دوران 2ارب 23کروڑ78لاکھ ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی)ہوئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2ارب 18کروڑ47 لاکھ ڈالر کی ایف ڈی آئی سے 2.4فیصد یا 5کروڑ31لاکھ ڈالر زیادہ ہے جس میں سے چین کی جانب سے سے 1ارب41کروڑ40لاکھ ڈالر انویسٹ کیے گئے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مذکورہ 10 ماہ کے اندر پورٹ فولیوانویسٹمنٹ سے سرمائے کا انخلا سال بہ سال 36 کروڑ 83لاکھ ڈالر سے گھٹ کر11کروڑ8لاکھ ڈالر تک محدود ہوگیا تاہم ڈیٹ سیکیورٹیز میں کم وبیش ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی وجہ سے مجموعی بیرونی سرمایہ کاری64.7 فیصد بڑھ کر 4ارب 57 کروڑ74 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2 ارب77کروڑ89لاکھ ڈالر تک محدود تھی، 10ماہ کے اندر چین کے ساتھ سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کاری برطانیہ کی جانب سے 24 کروڑ45 لاکھ ڈالر کی گئی۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ ملائیشیا نے 12کروڑ 35 لاکھ ڈالر،، امریکا کی جانب سے 8کروڑ 16لاکھ ڈالر ،سوئٹزرلینڈ کی جانب سے 7 کروڑ20 لاکھ ڈالر اور نیدرلینڈنے 6کروڑ 14لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تاہم ناروے،، جنوبی افریقہ،، قطر،، کویت اور کینیڈا نے سرمایہ نکالا، اس دوران سب سے زیادہ سرمایہ کاری بجلی کی پیداوار کے شعبے میں 74کروڑ 99 لاکھ ڈالر کی گئی۔اس کے علاوہ تعمیراتی شعبے میں 56کروڑ8 لاکھ ڈالر،، فنانشل بزنس میں 27 کروڑ 15لاکھ ڈالر،، تیل وگیس کی تلاش کیلیے 16 کروڑ 49لاکھ ڈالر،، فوڈ سیکٹر میں 10 کروڑ 16لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی،تجارتی، ٹرانسپورٹ، ٹورازم، اسٹوریج فیسلیٹیز، آٹوسیکٹر، شوگر، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں محدود سرمایہ کاری ہوئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل میں براہ راست سرمایہ کاری 17 کروڑ 97 لاکھ ڈالر سے گھٹ کر14کروڑ37لاکھ ڈالر رہ گئی جبکہ پورٹ فولیو انویسٹمنٹ سے انخلا بھی 2 کروڑ 20لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 1 کروڑ76 لاکھ ڈالر تک محدود ہوگیا، اس طرح اپریل 2018میں مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 12 کروڑ 61 لاکھ ڈالر تک محدود ہوگئی جو اپریل 2019 میں 14 کروڑ 26 لاکھ ڈالر رہی تھی۔