ممبئی حملہ کیس حتمی مراحل میں داخل،

دو گواہان واجد ضیاء اور زاہد اختر کو طلبی کا سمن جاری ملزم زکی الرحمن لکھوی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی دوران عدالت نے 27 بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق وزرات داخلہ، خارجہ اور ایف بی اے سے جواب طلب کرلیا

بدھ مئی 15:46

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ممبئی حملہ کیس حتمی مراحل میں داخل عدالت نے استغاثہ کے دو گواہ، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی ای) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وجاد ضیا اور زاہد اختر کو طلبی کا سمن جاری کردیا۔ بدھ کو ممبئی حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔

سماعت کے دوران ڈی پی او ڈی جی خان سہیل حبیب تاجک کا بیان قلمبند کیا گیا۔کیس میں ملزم زکی الرحمن لکھوی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔واضح رہے کہ ملزم زکی الرحمن لکھوی بعد از گرفتاری ضمانت پر ہیں۔۔سماعت کے دوران عدالت نے 27 بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق وزرات داخلہ، خارجہ اور ایف بی اے سے جواب طلب کرلیا ۔

(جاری ہے)

عدالت نے کہاکہ کیس حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے صرف دو پاکستانی گواہوں کا بیان ہونا باقی ہے۔

جسٹس شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ عدالت کے بار بار کہنے کے باوجود جنوری 2016 سے بھارتی گواہوں سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔۔عدالت نے 23 مئی تک بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم جاری کیا۔واضح رہے کہ اب تک کیس میں مجموعی طور پر ایف آئی اے کے 85گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں جبکہ ایف آئی اے کی طرف سے 150 گواہوں کی فہرست عدالت کو دی گئی تھی جن میں سے 63 گواہوں کو غیر ضروری قرار دے کر ترک کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مقدمے میں مجموعی طور 8 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے ملزم حماد امین، شاہد جمیل، ظفر اقبال، عبد الواحد، محمد یونس، جمیل احمد اور سفیان ظفر جیل میں ہیں۔یاد رہے کہ ذکی الرحمن لکھوی پر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ کا الزام ہے۔