بالڈھیر اغواء کیس کے فریقین کے مابین راضی نامہ، ملزمان نے متاثرہ خاندان کو 12 لاکھ روپے تاوان ادا کر دیا

جمعہ مئی 18:50

ہری پور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) بالڈھیر اغواء کیس کے دونوں فریقین کے مابین راضی نامہ ہو گیا، ملزمان نے جرگہ کے روبرو متاثرہ خاندان کو 12 لاکھ روپے جرمانہ ادا کیا، جرگہ میں دونوں اطراف سے افغان مہاجرین کے مشران نے شرکت کی، راضی نامہ کی بنیاد پر ملزمان جیل سے رہا ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق 31 مارچ 2018ء کو تھانہ سرائے صالح میں بالڈھیر کے رہائشی افغان مہاجر بڈ قصاب میر ولی ولد نے رپورٹ درج کرواتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کے دوبچوں ناز ولی عمر چھ سال اور شیر ولی عمر چار سال کو علی الصبح ایک نوجوان عورت اور مرد اپنے ساتھ سکول کے بہانے رکشہ میں بٹھا کر اغواء کر کے لے گئے۔

بعد ازاں ملزمان نے متاثرہ خاندان سے پانچ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔

(جاری ہے)

ڈی پی او سید خالد ہمدانی نے اس واقعہ کو انتہائی سنگین اور حساب قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ایس ایچ او تھانہ سرائے صالح صدیق شاہ کی سربراہی میں چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی جنہوں نے شب و روز محنت کے بعد دونوں بچوں کو بحفاظت بازیاب کر کے واقعہ میں ملوث اغواء کاروں افغان مہاجرین حبیب الرحمن ولد بابو جان، عالم نبی ولد محمد خان سکنان بالڈھیر اور فزا بی بی دختر ریاض شاہ سکنہ میرا توت کو گرفتار کر لیا تھا، اب افغان مہاجرین کے مشتران نے جرگہ میں اس مسئلہ کو حل کر دیا جس کے بعد پولیس نے گرفتار دونوں افراد کو رہا کر دیا۔