معروف فلم ساز نے نوجوان اداکارہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

پیر مئی 12:03

معروف فلم ساز نے نوجوان اداکارہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) فرانسیسی پولیس نے فلم ساز لوک بیسن کے خلاف ریپ الزامات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔لیون اور ففتھ ایلیمنٹ فلموں کے 59 سالہ ڈائریکٹر پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے پیرس کے ایک ہوٹل میں 27 سالہ اداکارہ کو منشیات دیں اور ان پر حملہ کیا۔انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ان کے خلاف درج کیے جانے والے مقدمے میں لگائے جانے والے الزامات کی لوک بیسن نے تردید کی ہے۔

بعد ازاں فلم ساز کے وکیل تھیری مارمبرٹ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’لوک بیسن نے الزامات کو مسترد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والے کو ’وہ جانتے ہیں، جس کے ساتھ انہوں نے کبھی نا مناسب سلوک روا نہیں رکھا۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ یہ الزامات کانز فلم فیسٹول کے آخری روز سامنے آئے جس میں فلمی صنعت میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ لوک بیسن فرانس کے معروف فلم ساز ہیں، جنہوں نے تقریبا 100 کے قریب فلمیں تحریر، ڈائریکٹ یا پروڈیوس کی ہیں، جن میں لکی، ٹکن اور دی بگ بلیو شامل ہیں۔حال ہی میں انہوں نے ایک سائنس فکشن فلم ’والرین‘ کو ڈائریکٹ کیا تھا جو جولائی میں ریلیز کی گئی۔رپورٹس کے مطابق فلم ساز اس وقت ملک سے باہر ہیں اور تاحال پولیس نے ان سے تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے رابطہ نہیں کیا۔

گزشتہ کافی وقت سے فلم انڈسٹری خصوصی طور پر ہولی وڈ میں مرد و خواتین کو یکساں مواقع اور ایک جیسا معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ خواتین اداکاراؤں کے ساتھ ہونے والے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف مہم جاری ہے۔۔فلم انڈسٹری میں دیگر معاملات میں بھی خواتین کو نظر انداز کرنے اور ان کے ساتھ مناسب رویہ نہ اپنانے کے خلاف اداکاراؤں اور خاتون پروڈیوسرز و ڈائریکٹرز نے دنیا کے سب سے بڑے فیشن فلمی میلے ’کانز‘ کے ریڈ کارپٹ پر منفرد انداز میں احتجاج کیا گیا تھا۔اداکاراؤں و خواتین فلم پروڈیوسرز نے احتجاج کے دوران رقص کرکے اسے نہ صرف منفرد بنایا بلکہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئیں تھی۔